کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 698
’’وکتابہ أجل التفاسیر وأعظمھا،فإنہ یتعرض لتوجیہ الأقوال،و ترجیح بعضھا علیٰ بعض،والإعراب والاستنباط،فھو یفوق بذلک علیٰ تفاسیر الأقدمین‘‘[1]انتھیٰ۔ [طبری رحمہ اللہ کی یہ کتاب تفاسیر میں سے عمدہ ترین اور افضل تفسیر ہے۔طبری رحمہ اللہ نے اس کتاب میں اقوال کی توجیہ بیان کی ہے اور ان کو ایک دوسرے پر ترجیح دی ہے۔نیز اعراب و استنباط کو بھی بیان کیا ہے،لہٰذا یہ متقدمین کی تفاسیر پر فائق ہے] امام نووی رحمہ اللہ نے کہا ہے: ’’أجمعت الأمۃ علیٰ أنہ لم یصنف مثل تفسیر الطبري‘‘[2] [امت کا اس پر اجماع ہے کہ تفسیر طبری جیسی کوئی تفسیر نہیں لکھی گئی] امام ابو حامد الاسفرائنی رحمہ اللہ نے کہا ہے: ’’لو سافر رجل إلی الصین حتیٰ یحصل لہ تفسیر ابن جریر لم یکن ذلک کثیرا‘‘[3] [اگر کوئی شخص تفسیر ابن جریر حاصل کرنے کے لیے چین تک کا سفر کرے تو یہ کوئی زیادہ سفر نہیں ہو گا] لوگ کہتے ہیں کہ ابن جریر رحمہ اللہ نے اپنے دوستوں سے پوچھا کہ کیا تم قرآن مجید کی تفسیر لکھنے کے لیے مستعد ہو؟ انھوں نے دریافت کیا کہ اس کا حجم کتنا ہو گا؟ ابن جریر رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ تیس ہزار صفحے۔انھوں نے کہا کہ اس کے پورا ہونے سے یہ عمر ختم ہو جائے گی۔ناچار ابن جریر رحمہ اللہ نے تین ہزار اوراق میں اسے مختصر کر دیا۔ابن السبکی رحمہ اللہ نے اپنے طبقات میں اس کا ذکر کیا ہے۔اس تفسیر کو متاخرین میں سے بعض علما نے منصور بن نوح سامانی رحمہ اللہ کے لیے عربی سے فارسی میں ترجمہ کیا ہے۔ تفسیر ابن جماعۃ: یہ قاضی برہان الدین ابراہیم بن محمد کنانی رحمہ اللہ (المتوفی: ۸۹۰؁ھ) کی تفسیر دس جلدوں میں ہے۔اس تفسیر میں مولف نے امورِ غریبہ کو جمع کیا ہے۔ابن شہبہ رحمہ اللہ نے اس کا ذکر کیا ہے۔