کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 695
کرتے تھے۔مگر دین و ملت میں جس شہرت اور بلند قدری پر وہ فائز تھے،ان کی نقل کردہ چیزوں کو اسی دن سے مقبولیت حاصل ہوئی۔پھر جب لوگوں نے تحقیق و تمحیص کی طرف رجوع کیا اور متاخرین میں سے ابو محمد بن عطیہ رحمہ اللہ مغرب میں آئے تو انھوں نے ان تمام تفاسیر کا خلاصہ کیا۔انھوں نے ان میں سے جو صحت کے قریب چیزیں تھیں،ان کو چھانٹ کر ایک کتاب میں جمع کر دیا،جو اہلِ مغرب اور اندلس کے ہاں متداول ہے اور ایک اچھی چیز ہے،جس کا قصد کیا جائے۔اسی طرح امام قرطبی رحمہ اللہ نے اس نہج پر ان کے طریقے کی پیروی کی اور ایسی کتاب میں ان چیزوں کو جمع کیا جو مشرق میں مشہور ہے۔ تفسیر کی دوسری قسم کا تعلق زبان کے ساتھ ہے،یعنی معنی کو مقاصد اور اسالیب کے مطابق ادا کرنے کے لیے لغت،اعراب اور بلاغت کی معرفت حاصل کرنا۔تفسیر کی یہ قسم پہلی قسم (تفسیر نقلی) سے کم ہی جدا ہوتی ہے،کیونکہ پہلی قسم مقصود بالذات ہے اور یہ اس وقت ہوتی ہے جب زبان اور اس کے علوم ایک عمدہ فن بن جائیں،جو بعض تفاسیر میں غالب ہوتے ہیں۔ تفاسیر میں سے اس فن پر مشتمل سب سے عمدہ تفسیر زمخشری رحمہ اللہ کی’’الکشاف‘‘ ہے،جو عراق کے علاقے خوارزم کے رہنے والے تھے،مگر ان کی تالیف عقائد میں معتزلہ کی موافقت کرتی ہے۔پس وہ ان کے فاسد مذاہب کو دلائل فراہم کرتی ہے،کیوں کہ وہ بلاغت کے طریقوں سے آیات کی تفسیر کرنے کے درپے ہوئے تو یہ چیز اہلِ سنت کے اس تفسیر سے انحراف کا باعث بنی اور جمہور نے اس کی کمین گاہوں سے خبردار کیا ہے،مگر اس کے باوجود انھوں نے زبان و بلاغت میں زمخشری رحمہ اللہ کی دسترس کا اقرار کیا ہے۔اس کتاب کا مطالعہ کرنے والا جب اہلِ سنت کے مذاہب سے واقف اور ان کے دلائل کو خوب جاننے والا ہو تو بلا شبہہ وہ اس کے فتنوں سے محفوظ ہو گا،پھر اس کو اس کے مطالعے سے زبان میں اس کے انوکھے فنون سے واقفیت کا علم ہو گا۔ آج کے ہمارے اس دور میں ایک عراقی عالم کی کتاب ہمارے ہاتھ لگی ہے جن کا نام شرف الدین طیبی رحمہ اللہ ہے،جو عراق عجم کے علاقے توریز کے باسی ہیں۔انھوں نے اپنی اس تالیف میں زمخشری رحمہ اللہ کی اس تفسیر کی شرح کی،اس کے الفاظ کا تتبع کیا اور اس کے معتزلی مذاہب کا ایسے دلائل سے تعاقب کیا ہے جو ان کا بطلان ظاہر کرتے ہیں۔نیز وہ اس کتاب میں اس بات کی بھی وضاحت کرتے ہیں کہ آیت میں بلاغت اہلِ سنت کے موقف اور رائے کے مطابق ہے نہ کہ معتزلہ