کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 689
تذکرۃ الأریب في التفسیر: یہ ابن الجوزی رحمہ اللہ (المتوفی: ۵۹۷؁ھ) کی تالیف ہے۔ تذکرۃ المنتھي فيالقراء ات: یہ شیخ ابو العز محمد بن حسین قلانسی رحمہ اللہ (المتوفی: ۵۲۱؁ھ) کی تالیف ہے۔ التذکرۃ في القراء ات السبع: یہ ابو الحسن طاہر بن احمد النحوی رحمہ اللہ (المتوفی: ۳۸۰؁ھ) کی تالیف ہے۔ التذکرۃ في اختلاف القراء: یہ شیخ ابو محمد مکی بن حموش المقری القیسی رحمہ اللہ (المتوفی: ۴۳۷؁ھ) کی تالیف ہے۔ تراجم الأعاجم: یہ فارسی زبان میں مختصر تفسیر ہے۔یہ سورتوں کی ترتیب پر مفرداتِ قرآن کی تفسیر میں ہے۔یہ زین المشائخ محمد بن ابی القاسم البقالی الخوارزمی رحمہ اللہ (المتوفی: ۵۶۲؁ھ) کی تالیف ہے،اس کی ابتدا یوں ہوتی ہے:’’الحمد للّٰہ مانح الأعلاق…الخ‘‘ ترتیب أحزاب القرآن۔ ترجمان القرآن في لغاتہ: شاید یہ’’تراجم الأعاجم‘‘ ہی ہے۔ ترجمان القرآن في تفسیر المسند: امام سیوطی رحمہ اللہ (المتوفی: ۹۱۱ھ؁) کی بہت ضخیم کتاب ہے،یہ پانچ جلدوں میں ہے۔ الترجمان في التفسیر: علامہ رحمہ اللہ نے کشاف کے حاشیے میں اس کا ذکر کیا ہے۔ تراجم القرآن: اس موضوع کی طرف اہلِ علم کی ایک جماعت نے توجہ دی ہے۔بعض نے تو فارسی تراجم لکھے ہیں،جیسے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ ہیں اور بعض نے اردو میں،جیسے مولوی رفیع الدین دہلوی اور شاہ عبدالقادر رحمہما اللہ کا ترجمہ ہے۔بعض نے ترکی میں،جیسے شیخ احمد داغستانی رحمہ اللہ نزیل مکہ مکرمہ۔یہ ترجمہ نواب سکندر بیگم مرحومہ رئیس بھوپال کی فرمایش پر لکھا گیا تھا،یہ ریاست کے خزانۂ کتب میں موجود ہے،ان کو ان کی جلد کے عوض پانچ ہزار روپے ملے۔بعض نے پشتو زبان میں ترجمہ کیا۔یہ ترجمہ مدار المہام محمد جمال الدین خان بہادر رحمہ اللہ کی فرمایش پر لکھا گیا اور مطبع بھوپال میں طبع کیا گیا۔اسی طرح انگریزی زبان میں بھی لوگوں نے قرآن مجید کا ترجمہ کیا ہے،لیکن معلوم نہیں کہ وہ متن کے [1] کشف الظنون (۱/ ۳۷۷)