کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 679
المصری رحمہ اللہ (المتوفی: ۶۵۴؁ھ) کی تالیف ہے۔ البدور الزاہرۃ في القراء ات العشرۃ المتواترۃ: یہ سراج الدین عمر بن ابی القاسم انصاری مصری نشار رحمہ اللہ کی ایک جلد میں تالیف ہے،اس کا آغاز یوں ہوتا ہے:’’الحمد للّٰہ الذي علم الإنسان ما لم یعلم…الخ‘‘ اس کتاب میں مصنف نے سہولتِ مطالعہ کی خاطر ہر مسئلے کو خود ہی ذکر کیا ہے۔ علم بدائع القرآن: ابو الخیر رحمہ اللہ نے اس کو علمِ تفسیر کی فروع میں شمار کیا ہے۔درحقیقت یہ علمِ بدیع ہے،مگر اس وقت یہ کلامِ قدیم میں واقع ہوا ہے۔ البدیع والبیان عن غوامص القرآن‘‘ تفسیر کی یہ کتاب ایک جلد میں ہے۔یہ حسن بن فتح بن حمزہ ہمدانی رحمہ اللہ (المتوفی بعد ۵۰۰؁ھ) کی تالیف ہے۔حافظ ابن الصلاح رحمہ اللہ نے کہا ہے: ’’وجدتہ یدل علیٰ أنہ کان ذا عنایۃ بالعربیۃ والکلام‘‘[1] [میں اس کو پایا ہے کہ مصنف رحمہ اللہ عربی دانی اور کلام پر کافی دسترس رکھتے تھے] البرہان في علوم القرآن: یہ شیخ بدرالدین محمد بن بہادر بن عبداللہ زرکشی رحمہ اللہ (المتوفی ۷۹۴؁ھ) کی تالیف ہے۔اس تفسیر میں مولف نے وہ تمام فنونِ قرآن جمع کر دیے ہیں،جن پر لوگوں نے کلام کیا ہے۔انھوں نے اس کو سینتالیس (۴۷) انواع پر مرتب کیا اور کہا ہے: ’’ما من نوع منھا إلا ولو أراد إنسان استقصاء ہ لاستفرغ عمرہ لم یحکم أمرہ فاقتصرنا من کل نوع أصولہ والرمز إلیٰ بعض فصولہ‘‘[2]انتھیٰ۔ [ان میں سے ہر نوع ایسی ہے کہ اگر کوئی انسان یہ ارادہ کرے کہ وہ اس کا احاطہ کرے تو اس کی عمر گزر جائے،پھر بھی وہ اس میں کامیاب نہ ہو پائے گا،پس ہم نے ہر نوع کے اصول کو بیان کرنے اور اس کی بعض فصول کی طرف اشارہ کرنے پر اکتفا کیا ہے]