کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 654
الإقناع في القراء ات السبع: یہ ابو جعفر احمد بن علی بن باذش نحوی رحمہ اللہ (المتوفی: ۵۴۶؁ھ) کی تالیف ہے۔اس جیسی کتاب پہلے کبھی نہیں لکھی گئی۔ الإقناع في القراء ات الشاذۃ: یہ ابو علی حسن بن علی اہوازی مصری رحمہ اللہ (المتوفی: ۴۴۶؁ھ) کی تالیف ہے۔جعبری رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ ابو عز قلانسی رحمہ اللہ کی تالیف ہے۔یقینا یہ بڑی واضح ہے اور اس میں طالب علم کے لیے کفایت ہے۔ أقویٰ العُدَد في القراء ات: یہ شیخ علم الدین محمد بن عبدالصمد سخاوی (المتوفی: ۶۴۳؁ھ) کی تالیف ہے۔ الاکتفاء في القراء ۃ: یہ ابو طاہر اسماعیل بن خلف مقری نحوی رحمہ اللہ (المتوفی: ۴۵۵؁ھ) کی تالیف ہے۔اس کی ابتدا ان الفاظ کے ساتھ ہوتی ہے:’’الحمد للّٰہ الذي أنشأنا بقدرتہ…الخ‘‘ اس کتاب میں انھوں نے پوری تفصیل بیان کی ہے جو مبتدی طالب علم کے لیے کافی ہے،پھر اس کتاب سے قراے سبعہ کے اختلاف میں ایک مختصر تلخیص کی ہے،جیسے اس کا عنوان اور اس کا ترجمہ ہے۔ الاکتفاء في قراء ۃ نافع وأبي عمرو: یہ حافظ ابو عمرو یوسف بن عبداللہ بن عبدالبر قرطبی رحمہ اللہ (المتوفی: ۴۶۳؁ھ) کی تالیف ہے۔ الإکسیر في قواعد التفسیر: یہ شیخ نجم الدین سلیمان بن عبدالقوی الحنبلی الطوفی رحمہ اللہ (المتوفی: ۷۱۰؁ھ) کی تالیف ہے۔ الإکلیل في استنباط التنزیل: یہ شیخ جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر سیوطی رحمہ اللہ (المتوفی:۹۱۱؁ھ) کی تالیف ہے۔اس کا آغاز اس طرح ہوتا ہے:’’الحمد للّٰہ الذي أنزل علیٰ عبدہ الکتاب تبیانا لکل شییٔ…الخ‘‘ اس تفسیر میں انھوں نے یہ ذکر کیا ہے کہ ہر چیز کا قرآن مجید سے استنباط ممکن ہے،چنانچہ انھوں نے اس کے بعد ایک ایک آیت اور اس آیت سے جو مسائل مستنبط ہوتے ہیں،ذکر کیے ہیں۔ التقاط الجني في علم التفسیر: اس کے متعلق تفصیل معلوم نہیں ہو سکی۔ [1] الإتقان (۲/ ۴۱۷) [2] کشف الظنون (۱/ ۱۳۷)