کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 652
عمدہ اور متوسط درجے کی کتاب ہے،جس کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے:’’الحمد للّٰہ الذي بنعمتہ حمد،وبہدایتہ عبد،وبخذلانہ جحد‘‘ اس کانام یہ ہے:’’الفرید في إعراب القرآن المجید‘‘ 10۔ابو عبداللہ حسین بن احمد ابن خالویہ نحوی رحمہ اللہ (المتوفی: ۳۷۰؁ھ) اعراب القرآن میں ان کی کتاب سورۃ الطارق سے لے کر آخر قرآن تک تیس سورتوں اور سورۃ الفاتحہ پر مشتمل ہے،جس میں انھوں نے ہر حرف کے اصول کی شرح کی ہے اور اس کی فروع کی تلخیص کی ہے۔ 11۔موفق الدین عبداللطیف بن یوسف بغدادی شافعی رحمہ اللہ (المتوفی: ۶۲۹؁ھ) ان کی کتاب صرف سورۃ الفاتحہ کے اعراب پر مشتمل ہے۔ 12۔اسحاق بن محمود بن حمزہ تلمیذ ابن ملک رحمہ اللہ۔انھوں نے قرآن کریم کے آخری پارے کے اعراب کو بیان کیا اور اپنی کتاب کا نام’’تنبیہ‘‘ رکھا ہے۔ان کی کتاب کا آغاز بالکل کتاب’’بیان‘‘ کی طرح ہے،جو پہلے گزر چکی ہے۔ 13۔احمد بن محمد شانجی زادہ رحمہ اللہ (المتوفی: ۹۸۶؁ھ) انھوں نے اپنی کتاب صرف سورۃ الاعراف تک لکھی ہے۔اعرابِ قرآن پر لکھی جانے والی کتابوں میں سے ایک’’تحفۃ الأقران فیما قریٔ بالتثلیث من القرآن‘‘ ہے۔ أعشارالقرآن العظیم: یہ’’کشف الظنون‘‘ میں بیان ہوئی ہے۔[1] إغاثۃ اللھف في تفسیر سورۃ الکہف: یہ شیخ یونس بن عمر حنفی رحمہ اللہ کی تالیف ہے۔پھر انھوں نے اس کتاب کی تلخیص کی اور اس کانام’’مطالع الکشف‘‘ رکھا۔ إفادۃ الشیوخ بمقدار الناسخ والمنسوخ: یہ راقم الحروف محمد صدیق حسن خان القنوجی رحمہ اللہ کی تالیف ہے،جو ریاست بھوپال کے رہنے والے تھے جو مالوہ دکن کی ریاستوں سے ہے۔مصنف نے اس میں قرآن و حدیث ہر دو کے ناسخ و منسوخ کو جمع کیا ہے اور اس موضوع پر لکھے جانے والے متقدمین اور متاخرین کے رسائل اور کتابوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔