کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 65
اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا تم جانتے ہو کہ مقرب فرشتے کس چیز کے بارے میں بحث و مباحثہ کر رہے ہیں ؟] علامہ حلیمی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر چھیالیس (۴۶) انواع سے وحی آتی تھی۔[1] علامہ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں کہا ہے: ’’وغالبھا من صفات حامل الوحي‘‘[2] [ان میں سے غالب انواع حاملِ وحی کی صفات کے اعتبار سے ہیں ] امام ابن منیر رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اختلافِ وحی اختلافِ مقتضا کے ساتھ ہوتا تھا۔اگر وحی میں وعد و بشارت ہوتی تو فرشتہ آدمی کی شکل میں آ کر بغیر سختی کے خطاب کرتا اور اگر اس میں وعید و انذار ہوتا تو وہ گھنٹی کی آواز کی طرح ہوتی۔ ابن عادل رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ جبریل علیہ السلام چوبیس (۲۴) ہزار مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئے۔آدم علیہ السلام پر بارہ ہزار مرتبہ،ادریس علیہ السلام پر چار ہزارمرتبہ،نوح علیہ السلام پر پچاس ہزار مرتبہ،موسیٰ علیہ السلام پر چار سو مرتبہ اور عیسیٰ علیہ السلام پر دس بار نازل ہوئے۔ امام طبرانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ (جبریل علیہ السلام) آدم علیہ السلام پر چودہ بار،نوح علیہ السلام پر پچاس مرتبہ،دو بار چھوٹی عمر میں اور باقی بڑی عمر میں،عیسیٰ علیہ السلام پر دس بار،تین بار بچپن میں اور سات مرتبہ بلوغت کے بعد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بچپن میں چودہ بار آئے۔[3] واللّٰہ أعلم۔ [1] فتح الباري (۱/ ۲۰) [2] فتح الباري (۱/ ۲۰) [3] خزینۃ الأسرار للنازلي (ص: ۱۰)