کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 644
شیخ برہان الدین ابراہیم بن عمر جعبری رحمہ اللہ (المتوفی: ۷۳۲؁ھ) رحمہ اللہ نے اس کا اختصار کیا ہے۔انھوں نے اس میں موجود روایات کی سندوں کو حذف کر دیا اور اس میں کسی چیز کا اضافہ نہیں کیا۔ أسباب النزول: ابو الفرج عبدالرحمن بن علی بن الجوزی البغدادی رحمہ اللہ کی تالیف ہے۔ أسباب النزول: شیخ حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی (المتوفی: ۷۵۲؁ھ) رحمہ اللہ کی تالیف ہے،لیکن اس کا مسودہ مبیضے میں منتقل نہیں ہو سکا۔امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے بھی اس موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے،جس کا نام’’لباب النقول‘‘ ہے۔یہ ایک ضخیم کتاب ہے،جس کا ذکر آگے آئے گا۔ أسباب النزول: شیخ ابو جعفر محمد بن علی بن شعیب المازندرانی رحمہ اللہ (المتوفی: ۵۸۸؁ھ) کی تالیف ہے۔ الاستغناء بالقرآن: یہ حافظ زین الدین عبدالرحمن بن احمد معروف بابن رجب حنبلی بغدادی (المتوفی: ۷۹۵؁ھ) رحمہ اللہ کی تالیف ہے۔ الاستغناء في التفسیر: اس کی ایک سو جلدیں ہیں۔یہ شیخ ابوبکر محمد بن علی بن احمد اِدفوی (المتوفی: ۳۰۸؁ھ) رحمہ اللہ کی تالیف ہے۔ أسماء القرآن الکریم: یہ شیخ امام حافظ شمس الدین محمد بن ابی بکر بن ایوب درعی معروف بابن القیم جوزی حنبلی (المتوفی: ۷۵۱؁ھ) رحمہ اللہ کی تالیف ہے۔ أسماء من نزل فیہم القرآن: یہ شیخ اسماعیل الضریر رحمہ اللہ کی تالیف ہے۔ الأسئلۃ فيالبسملۃ: برہان الدین ابراہیم بن محمد القباقبی رحمہ اللہ (المتوفی فی حدود ۸۰۵ھ؁) کی تالیف ہے۔ أسئلۃ الإمام: یوسف بن الدمشقی رحمہ اللہ (المتوفی: ۱۰۵۵؁ھ) کی تفسیر و حدیث وغیرہ سے متعلق تالیف ہے۔انھوں نے سلطان مراد خان کے حکم سے یہ کتاب تصنیف کی اور احمد بن یوسف مشہور بمعید،جو اس وقت عسکر روم ایلی کے قاضی تھے،کے پاس بھیج دی۔اس نے اس کا جواب لکھا۔جب امام کو اس کے جواب معلوم ہوئے تو انھوں نے ان میں سے اکثر کا رد کیا۔سلطان نے چاہا کہ ان میں راجح جواب مرجوح جوابات سے ممتاز ہو جائیں،چنانچہ [1] کشف الظنون (۱/ ۷۶)