کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 642
کے ہاتھوں میں پہنچی ہے۔راقم الحروف کے پاس بھی یہ تفسیر موجود ہے۔ الإرشاد والتطریز في فضل ذکر اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ وتلاوۃ کتابہ العزیز: یہ ابو سعادات عبداللہ بن اسعد یافعی یمنی رحمہ اللہ (المتوفی: ۷۷۱؁ھ) کی تالیف ہے۔انھوں نے اس کا ایک اختصار بھی لکھا ہے۔ الإرشاد في تفسیر القرآن: یہ شیخ الاسلام امام ابو الحکم عبدالسلام بن عبدالرحمن المعروف بابن برجان لخمی اشبیلی رحمہ اللّٰه (المتوفی: ۶۲۷؁ھ) کی تالیف ہے۔یہ کئی جلدوں پر محیط ایک ضخیم تفسیر ہے۔اس میں وہ اَسرار و خواص ذکر کیے گئے ہیں،جو اس فن کے ماہرین میں مشہور ہیں اور ان کے رموزات سے کچھ امور کا استنباط کیا گیا،جن کی ان کے واقع ہونے سے پہلے خبر دی گئی ہے۔[1] راقم الحروف کہتا ہے کہ یہ تفسیر نہیں،بلکہ کوئی اور ہی فن ہے جو قرآن سے نکالا گیا ہے اور نزولِ قرآن کے مقصد سے خارج ہے۔ الأریب في تفسیر الغریب: یہ امام ابو الفرج عبدالرحمن بن علی بن الجوزی رحمہ اللہ کی تالیف ہے۔ إزالۃ الشبہات عن الآیات والآحادیث المشتبہات: یہ ابو عبداللہ محمدبن احمد معروف بابن اللبان مصری رحمہ اللہ (المتوفی: ۷۴۹؁ھ) کی تالیف ہے۔ الأزھار الفائحۃ علی الفاتحۃ: یہ امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ کی تالیف ہے۔ علم اسباب النزول: یہ علمِ تفسیر کی ایک فرع ہے۔اس علم میں اہلِ علم سورت یا آیت کے سببِ نزول،نیز مکانِ نزول اور اس جیسی چیزوں پر بحث کرتے ہیں۔ان مقدمات کے اصول سلف سے منقول اور مشہور ہیں۔اس کی غرض ان امور کا ضبط کرنا ہے۔سببِ نزول کی معرفت کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے حکمت کی وجہ معلوم ہو جاتی ہے،جو حکم کی تشریع کا باعث ہوتی ہے اور حکم کی اس کے ساتھ اس شخص کے ہاں تخصیص ہوتی ہے،جو خصوصِ سبب کے معتبر ہونے کا قائل ہے۔لفظ کبھی عام ہوتا ہے اور اس کی تخصیص پر دلیل قائم [1] کشف الظنون (۱/ ۶۵)