کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 633
أَفْضَلَ مَا أُعْطِيْ السَّائِلِیْنَ،وَفَضْلُ کَلَامِ اللّٰہِ علیٰ سَائِرِ الْکَلَامِ کَفَضْلِ اللّٰہِ عَلیٰ خَلْقِہِ)) [1] (رواہ الترمذي والدارمي والبیہقي في شعب الإیمان،وقال الترمذي: ھٰذا حدیث حسن غریب) [جس شخص کو قرآن مجید نے میرے ذکر اور مجھ سے سوال کرنے سے مشغول کر رکھا ہو،میں اسے اس سے بہتر عطا کرتا ہوں،جو سوال کرنے والوں کو دیتا ہوں اور اللہ کے کلام کو دیگر کلاموں پر ایسے ہی برتری حاصل ہے،جیسے اللہ کو اپنی مخلوق پر برتری حاصل ہے] 18۔عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ((لَوْ جُعِلَ الْقُرْآنُ فِيْ إِھَابٍ ثُمَّ أُلْقِيَ فِيْ النَّارِ مَا احْتَرَقَ)) [2] (رواہ الدارمي) [اگر قرآن مجید کو کسی چمڑے میں رکھ کر آگ میں ڈالا جائے تو وہ ہرگز نہ جلے گا] 19۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((تَعَلَّمُوْا الْقُرْآنَ فَاقْرَأُوْہُ فَإِنَّ مَثَلَ الْقُرْآنِ لِمَنْ تَعَلَّمَ فَقَرأَ وَقَامَ بِہِ کَمَثَلِ جِرَابٍ مَحْشُوٍّ مِسْکًا،تَفُوْحُ رِیْحُہُ کُلَّ مَکَانٍ،وَمَثَلُ مَنْ تَعَلَّمَہُ فَرَقَدَ وَھُوَ فِيْ جَوْفِہِ کَمَثَلِ جِرَابٍ أُوْکِيَ عَلیٰ مِسکٍ)) [3] (أخرجہ الترمذي والنسائي وابن ماجہ) [قرآن سیکھو اور اسے پڑھو،کیونکہ قرآن سیکھنے والا،اسے پڑھنے اور اس کا اہتمام کرنے والا کستوری سے بھری ہوئی تھیلی کی مانند ہے،جس کی خوشبو ہر جگہ مہکتی ہو اور جس نے اسے سیکھا،لیکن سویا رہا،حالانکہ قرآن اس کے سینے میں ہے تو وہ کستوری کی اس بند تھیلی کی طرح ہے،جس کا منہ بند ہو گیا ہو] 20۔اوس ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((قِرَائَ ۃُ الرَّجُلِ الْقُرْآنَ فِيْ غَیْرِ الْمُصْحَفِ أَلْفُ دَرَجَۃٍ،وَقِرَائَ تُہُ فِيْ [1] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۹۰۵) اس کی سند میں حفص بن سلیمان راوی متروک ہے۔ [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۷۱۰۵) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۷۹۳) [3] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۷۰۸۹)