کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 630
اور نیکی دس گنا بڑھ جاتی ہے۔میں نہیں کہتا کہ’’الم‘‘ ایک ہی حرف ہے،بلکہ الف ایک حرف ہے،لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے] 10۔عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ عمل کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَلْحَالُّ الْمُرْتَحِلُ،قَالَ: وَمَا الْحَالُّ الْمُرْتَحِلُ؟ قَالَ: الَّذِيْ یَضْرِبُ مِنْ أَوَّلِ الْقُرْآنِ إِلیٰ آخِرِہِ کُلَّمَا حَلَّ ارْتَحَلَ)) [1] (أخرجہ الترمذي) [اترنے والا اور روانہ ہونے والا۔اس نے کہا: اترنے والے اور روانہ ہونے والے سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص جو قرآن کو شروع سے پڑھتا ہے اور آخر تک پڑھتا چلا جاتا ہے،جب وہ ختم کرتا ہے تو اسے دوبارہ شروع کر دیتا ہے] 11۔عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((یُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ: اقْرَأْ وَارْقَ،وَرَتِّلْ کَمَا کُنْتَ تُرَتِّلْ فِيْ الدُّنْیَا،فَإِنَّ مَنْزِلَکَ عِنْدَ اللّٰہِ آخِرُ آیَتِہِ تَقْرَأُھَا)) [2] (أخرجہ الترمذي،وقال: حسن صحیح) [صاحبِ قرآن سے کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور چڑھتا جا اور ویسے ہی ترتیل سے پڑھ جیسے تو دنیا میں ترتیل سے پڑھتا تھا اور تو جہاں آخری آیت پڑھے گا،اللہ کے ہاں وہی تیری منزل ہو گی] 12۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((یَجِیْیُٔ الْقُرْآنُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ،فَیَقُوْلُ یَا رَبِّ!: حَلِّہِ،فَیُلْبَسُ تَاجَ الْکَرَامَۃِ،ثُمَّ یَقُوْلُ: یَا رَبِّ! زِدْہُ فَیُلْبَسُ حُلَّۃَ الْکَرَامَۃِ،ثُمَّ یَقُوْلُ: رَبِّ! اِرْضَ عَنْہُ،فَیُقَالُ: اِقْرَأْ وَارْقَ،وَیُزَادُ بِکُلِّ آیَۃٍ حَسَنَۃً)) [3] (أخرجہ الترمذي وحسنہ) [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۴۶۵۳) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۷۹۸) [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۷۱۲۱) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۷۹۷) [3] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۹۱۰)