کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 63
قرآن مجید کے نام قرآن مجید کے جو نام قرآن مجید میں آئے ہیں،ان کی تعداد پچپن (۵۵) ہے۔امام سیوطی رحمہ اللہ نے’’الإتقان في علوم القرآن‘‘ میں ان سب کو ذکر کیا ہے۔[1] ان میں سے دس نام ایسے ہیں،جو من جملہ اسماے حسنیٰ کے ہیں۔ناموں کی کثرت مسمیٰ (ذات) کے شرف کی دلیل ہے۔نزولِ قرآن کے بارے میں دو قول ہیں : 1۔ایک قول یہ ہے کہ یہ لوحِ محفوظ سے ملک سماے دنیا کی طرف،جسے عقلِ فعال کہتے ہیں،شبِ قدر میں یک بارگی اترا۔ 2۔دوسرا قول یہ ہے کہ لوحِ محفوظ سے عقل کی طرف یک بارگی نزول کے مطابق ایک سال میں حسبِ مصالح نزول ہوا،پھر بیس بائیس سال میں پورا ہوا۔ جہاں تک نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کی طرف بہ حسبِ احتیاج بہ واسطہ جبریل ظہور کا تعلق ہے تو اس کے بھی مذکورہ دو طریقوں کے علاوہ اور دو طریقے ہیں : 1۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صورتِ بشریت سے صورتِ ملکیت کی طرف منتقل ہو کر جبریل علیہ السلام سے قرآن اخذ کرتے تھے۔یہ طریقہ سخت ہے۔ 2۔جبریل علیہ السلام اپنی صورتِ ملکیت سے صورتِ بشریت کی طرف نکل کر القا کرتے تھے،چنانچہ وہ اکثر صحابیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی صورت اختیار کر کے آتے تھے،کیوں کہ افاضے کے لیے مفیض اور مستفیض کے درمیان مناسبت کا ہونا ضروری ہے۔ بہرحال اللہ کا کلام مخلوق نہیں ہے،جو اسے مخلوق کہے وہ کافر ہے۔ ابو نعیم رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے کہ جبریل و میکائیل علیہما السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ مبارک چاک کیا تھا۔اس کو طیالسی و حارث نے بھی روایت کیا ہے۔[2] اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وحی کو طاقتور دل کے [1] الإتقان في علوم القرآن (۱/ ۱۴۱) [2] مسند الطیالسي (۱۵۳۹) بغیۃ الباحث عن زوائد مسند الحارث (۹۲۸)