کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 627
الْآخَرِ،وَہُوَ کِتَابُ اللّٰہِ،حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَائِ إِلَی الْأَرْضِ،وَعِتْرَتِيْ أَہْلُ بَیْتِيْ،لَمْ یَتَفَرَّقَا حَتّٰی یَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ،فَانْظُرُوْا کَیْفَ تَخْلُفُوْنِيْ فِیْھِمَا)) [1] [میں تم میں وہ کچھ چھوڑ کر جا رہا ہوں،جس کو تھام کر رکھنے سے تم کبھی گمراہ نہ ہو گے،ان میں ایک دوسری سے بڑی ہے اور وہ اللہ کی کتاب ہے،وہ آسمان سے زمین تک لٹکائی ہوئی ایک رسی ہے اور میرے اہلِ بیت،یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے،حتیٰ کہ یہ دونوں میرے پاس حوض (کوثر) پر وارد ہوں گے،لہٰذا تم دیکھو کہ تم ان دو چیزوں کے بارے میں کیسے جانشین ثابت ہو رہے ہو] 3۔عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ خبردار رہو! تمھارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِھٰذَا الْکِتَابِ أَقْوَامًا،وَیَضَعُ بِہِ آخَرِیْنَ)) [2] (رواہ مسلم) [یقینا اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے سے کچھ لوگوں کو رفعت عطا فرماتا ہے اور کچھ لوگوں کو پستی میں گراتا ہے] 4۔علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خبردار! بلا شبہہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ((أَلَا إِنَّھَا سَتَکُوْنُ فِتْنَۃٌ،فَقُلْتُ: فَمَا الْمَخْرَجُ مِنْھَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم ؟! قَالَ: کِتَابُ اللّٰہِ،فِیْہِ نَبَأُ مَا قَبْلَکُمْ،وَخَبَرُ مَا بَعْدَکُمْ،وَحُکْمُ مَا بَیْنَکُمْ،ہُوَ الْفَصْلُ،لَیْسَ بِالْہَزْلِ،مَنْ تَرَکَہُ مِنْ جَبَّارٍ قَصَمَہُ اللّٰہُ،وَمَنِ ابْتَغَی الْھُدیٰ فِيْ غَیْرِہِ أَضَلَّہُ اللّٰہُ،وَہُوَ حَبْلُ اللّٰہِ الْمَتِیْنُ،وَہُوَ الذِّکْرُ الْحَکِیْمُ،وَہُوَ الصِّرَاطُ الْمُسْتَقِیْمُ،وَہُوَ الَّذِيْ لَا تَزِیْغُ بِہِ الأَہْوَأُ،وَلاَ تَلَتَبِسُ بِہِ الْأَلْسِنَۃُ وَلَا تَشْبَعُ مِنْہُ الْعُلَمَائُ،وَلَا یَخْلَقُ عَنْ کَثْرَۃِ الرَّدِّ،وَلَا تَنْقَضِيْ عَجَائِبُہُ،ہُوَالَّذِيْ لَمْ تَنْتَہِ الْجِنُّ إِذَا سَمِعَتْہ حَتّٰی ﴿فَقَالُوْٓا اِِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًا* یَّھْدِیْ اِِلَی الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِہٖ﴾ مَنْ قَالَ بِہِ صَدَقَ،وَمَنْ عَمِلَ بِہِ أُجِرَ،وَمَنْ حَکَمَ بِہِ عَدَلَ،وَمَنْ دَعَا إِلَیْہِ ھُدِيَ إِلٰی صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمٍ،خُذْہَا إِلَیْکَ یَا أَعْوَرُ!)) [3] (أخرجہ الترمذي،وقال: حدیث غریب،وإسنادہ مجہول،وفي الحدیث مقال) [1] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۲۴۰۸) [2] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۲۴۰۸) [3] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۲۴۰۸)