کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 622
موعظۃ،(۵۶) نبا،(۵۷) نعمت،(۵۸) نور،(۵۹) نور مبین،(۶۰) وحی۔ مذکورہ بالا صفات میں سے بعض تو صریح اور ظاہر ہیں کہ ان سے مراد قرآن کریم ہی ہے اور بعض صفات لوگوں کی آرا کے اختلاف کی بنا پر احتمال کے ساتھ ہیں۔جس طرح ابو شامہ رحمہ اللہ نے ایک جماعت سے نقل کیا ہے کہ فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿وَ رِزْقُ رَبِّکَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰی﴾ میں ﴿رِزْقُ رَبِّکَ﴾ سے مراد قرآن عظیم ہے۔[1] سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جب قرآن مجید کو جمع کر کے اوراق پر لکھا گیا تو وہ فرمانے لگے کہ اس کو کس نام سے موسوم کرنا چاہیے؟ بعض لوگوں نے مشورہ دیا کہ اس کا نام’’إنجیل‘‘ رکھا جائے۔بعض نے’’سفر‘‘ کا نام تجویز کیا۔عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے حبشہ میں دیکھا ہے کہ وہ اپنی کتاب کو مصحف کہتے ہیں،لہٰذا انھوں نے اس کا نام مصحف رکھا۔[2] لیکن مصحف کا لفظ مرفوع حدیث میں وارد ہوا ہے۔[3] مگر شاید صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے یہ حدیث مخفی رہی ہو،ورنہ حبشیوں کے نام سے استشہاد کرنے کی کیا ضرورت تھی۔قرآن مجید میں موجود قرآن کے اسما بندوں کے نام رکھنے سے مستغنی کرتے ہیں۔ رہے سورتوں اور اعشار کے وہ نام جو مصحف میں درج ہیں تو یہ حجاج بن یوسف ثقفی کی ایجاد ہے۔تفاسیر میں سے تفسیرمدارک میں جو کچھ ذکر کیا گیا ہے کہ فلاں پیغمبر پر اتنے اور فلاں پر اتنے صحیفے نازل ہوئے اور ان تمام صحف اور کتبِ انبیا کے مقاصد سورۃ الفاتحہ میں جمع ہو گئے ہیں۔سورۃ الفاتحہ کے تمام معانی بسملہ میں ہیں اور اس کے معانی بسملہ کی با میں ہیں اور با کے معنی اس کے نقطے میں ہیں۔اس طرح کی باتیں نکات شعریہ کی قبیل سے ہیں،فنِ تفسیر میں اس کی گنجایش نہیں ہے۔ایسا کرنا اس معاملے میں بحث و خوض کرنے کے مترادف ہے،جس کا ان کو حکم نہیں دیا گیا ہے۔ رحمن کی رحمت کا مظہر: خدا تعالیٰ نے اپنی پور ی لطافت اور نرمی کے ساتھ اپنے بندوں (کی ہدایت) کے لیے قرآن کریم نازل فرمایا،تاکہ وہ اللہ کی مرضی اور نامرضی کو پہچان لیں۔اپنے نفس کی مکاریوں،اعمال کی