کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 619
محکم و متشابہ آیات کا بیان: قرآن مجید میں محکم اور متشابہ آیات کے وجود میں کوئی اختلاف نہیں ہے،کیونکہ نصِ صریح: ﴿مِنْہُ اٰیٰتٌ مُّحْکَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْکِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِھٰتٌ﴾ [آل عمران: ۷] [جس میں سے کچھ آیات محکم ہیں،وہی کتاب کی اصل ہے اور کچھ دوسری کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں ] اس پر دلالت کرتی ہے۔اہلِ علم نے ان ہر دو کی تعریف میں اختلاف کیا ہے اور گونا گوں باتیں کی ہیں۔ہر ایک نے ایک موقف اور راستہ اختیار کیا ہے۔ان سب باتوں کو یہاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے،بس اتنا جان لینا چاہیے کہ محکم کا حکم یہ ہے کہ اس پر عمل کرنا واجب ہے،جبکہ متشابہ میں اختلاف ہے۔حق یہ ہے کہ اس پر عمل کرنا جائز نہیں ہے،کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَآئَ الْفِتْنَۃِ وَ ابْتِغَآئَ تَاْوِیْلِہٖ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَہٗٓ اِلَّا اللّٰہُم وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِہ﴾ [آل عمران: ۷] [پھر جن لوگوں کے دلوں میں تو کجی ہے وہ اس میں سے ان کی پیروی کرتے ہیں جو کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں،فتنے کی تلاش کے لیے اور ان کی اصل مراد کی تلاش کے لیے،حالانکہ اس کی اصل مراد نہیں جانتا مگر اللہ اور جو علم میں پختہ ہیں وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے] مذکورہ بالا آیت میں ﴿وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ﴾ پر وقف کرنا صحیح نہیں،کیونکہ اس پر وقف کرنے کی صورت میں اس کے بعد والے جملے ﴿یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِہ﴾ کو جملہ حالیہ بنانا لازم آتا ہے اور ان کے علم کی اس کے ساتھ تقیید کرنے سے اس حالت میں خاصے کا کوئی معنی نہیں بنتا۔ یہ جو ہم نے کہا ہے کہ متشابہ پر عمل کرنا جائز نہیں،یہ اس لحاظ سے نہیں ہے کہ متشابہ آیت کا کوئی معنی ہی نہیں ہے،کیونکہ یہ ناجائز ہے،بلکہ اس بنا پر ہے کہ لوگوں کے فہم اس علم سے قاصر ہیں۔نیز اس بنا پر ہے کہ ان کو متشابہ آیات سے اللہ تعالیٰ کی مراد کا علم نہیں ہے،جس طرح سورتوں کے آغاز میں استعمال ہونے والے حروف مقطعات ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ان حروف کے معانی ہیں، [1] دیکھیں : إرشاد الفحول (۱/ ۸۸) [2] اس کا نام’’الرسالۃ المکملۃ في أدلۃ البسملۃ‘‘ ہے۔دیکھیں : البدر الطالع (۲/ ۲۲۱) [3] نیل الأوطار (۲/ ۲۱۵)