کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 614
کے مطابق اور آیات کے مفہوم و مدلول کی راہ میں سلف کے فہم کے موافق چلنا چاہیے۔گہرائی میں اترنے والوں کی گہرائی اور ان کے تشدد سے دور رہنا چاہیے کہ وہ تو ہر بال کی جڑ سے ایک تازہ معنی اگاتے ہیں اور دقیق نکات کا استنباط کرتے ہیں،کیونکہ ان کا یہ طریقۂ کار سلفِ امت اور ان کے ائمہ کے طریق کے خلاف ہے۔ ترسم نرسی بکعبہ ای اعرابی کیں رہ کہ تو میروی بترکستانست [اے دیہاتی! مجھے ڈر ہے کہ تو کعبہ نہیں پہنچے گا،کیونکہ تو جس راہ کو اختیار کیے ہوئے ہے یہ ترکستان کی راہ ہے] ہر آیت کے تحت غیر معروف چیزوں کا ذکر کر کے جو وہ لمبی چوڑی تفسیر کرتے ہیں،یہ سب بے جا موشگافیاں اور بہت سی عرق ریزیاں،جو یہ لوگ کرتے ہیں،یہ کوئی حیثیت نہیں رکھتیں اور ہلکے سے ہلکے سکے کے برابر بھی ان کی قیمت نہیں ہے۔بلکہ یہ تو وہی تصحیف و تحریفِ کلام ہے،جو اہلِ کتاب سے مندرجہ ذیل فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے مصداق اس امت کو ملی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْلَکُمْ حَذْوَالنَّعْلِ بِالنَّعْلِ)) [1] [تم اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقے پر یوں چل پڑو گے،جیسے ایک جوتا دوسرے جوتے کے برابر ہوتا ہے] تفسیر کیا ہے؟ لغوی لحاظ سے تفسیر کی اصل یہ ہے کہ یہ’’فسر‘‘ سے مشتق ہے،جو پوشیدہ کو کھولنے کے معنی میں آتا ہے،یعنی معقول معانی کو بیان کرنا۔پس ہر وہ معنیٰ جو اس چیز سے شناخت کیا جائے اور اس کا معنی معلوم ہو،وہ تفسیر ہے۔کبھی تفسیر کا اطلاق اس چیز پر ہوتا ہے،جو مفردات اور غریب لفظ کے ساتھ مختص ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تفسیر’’تفسرہ‘‘ سے مشتق ہے،یعنی وہ دلیل جس پر نظر کرتے ہوئے طبیب مرض کی علت اور سبب دریافت کرتا ہے۔اسی طرح مفسر کلامِ قدیم میں نظر کر کے آیت کا معنی،شانِ نزول،قصہ اور حکم دریافت کرتا ہے۔ [1] مسند أحمد (۱/۲۶۶) صحیح ابن حبان (۱۵/۵۳۱) المستدرک للحاکم (۳/۶۱۵) المعجم الکبیر للطبراني (۱۰/۲۶۳) المعجم الأوسط للطبراني (۲/۱۱۲) المعجم الصغیر (۱/۳۲۷) مصنف ابن أبي شیبۃ (۶/۳۸۳) السلسلۃ الصحیحہ للألباني،رقم الحدیث (۲۵۸۹)