کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 61
ایسی دلیل ثابت نہیں ہے،جو قابلِ حجت ہو۔ہاں ابو عوانہ کی ایک روایت اس پر دلیل ہے۔اسی طرح توسلِ انبیا کے لیے وہی حدیثِ اعمیٰ دلیل ہے،[1] جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ اللہ سے میرے لیے دعا کریں کہ میری بینائی کھل جائے۔اسی طرح توسل بہ صلحا کی دلیل وہی حدیث ہے،جس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ استسقا کیا تھا۔[2] خلوصِ نیت کی برکات: تلاوتِ قرآن میں جہر و اخفا،تلاوت کرنے والے کے حسبِ حال،دونوں جائز ہیں۔عمل کی فضیلت نیتوں کے اعتبار سے ہوتی ہے۔بعض اہلِ علم کے نزدیک فرشتے ذکرِ قلبی کو لکھتے ہیں اور بعض کے نزدیک نہیں لکھتے،ان میں سے پہلا قول صحیح ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ حضورِ دل کے ساتھ زبان سے تہلیل و تسبیح کرنا صرف دل کے ساتھ تہلیل و تسبیح کرنے سے افضل ہے۔[3] انتھٰی۔ ممکن ہے کہ بندے کی ساری حرکات و سکنات،جیسے کھانا پینا،نیند،بیوی سے ہم بستری اور جماع،سب عبادت ہوں،بشرطیکہ یہ کام اس نیت کے ساتھ کیے جائیں کہ اس سے عبادت کی ادائی میں مدد ملے گی۔’’إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّیَاتِ‘‘[4] [تمام اعمال کا دارومدار نیتوں کے ساتھ ہے] اسی طرح ہنر اور پیشے جو حلال کھانے اور اطاعات پر معاونت کے لیے کیے جاتے ہیں،سب کے سب اعمال اچھی نیتوں کے ساتھ عبادت بن جاتے ہیں،جن پر بندے کو اجر و ثواب دیا جاتا ہے اور ان کے ساتھ قیامت کے دن اس کی نیکیوں کا ترازو بھاری ہو گا،بشرطیکہ ان میں آداب کا لحاظ رکھا [1] لیکن وہ اس وقت کے ساتھ خاص تھی،جب رسول اللہe نے حضرت اعمیt سے فرمایا تھا۔یہی وجہ ہے کہسلفs میں اس عمل کا عموم نہیں ملتا،جو خصوصیت کی قوی دلیل ہے۔دیکھیے: مولف امام کی تالیف’’نزل الأبرار في الأدعیۃ والأذکار‘‘ (ص: ۳۰۳) [مولانا عطاء اﷲ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ ] [2] یعنی صحابہ کرام نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ دعا کی تھی،جب وہ زندہ تھے اور ان کے ساتھ دعا میں شریک تھے۔دیکھیں : صحیح البخاري،رقم الحدیث (۹۶۴) لہٰذا کسی فوت شدہ یا غائب کے ساتھ وسیلہ پکڑنے کے لیے اس حدیث سے استدلال کرنا درست نہیں۔ [3] الأذکار للنووي (ص: ۱۷) [4] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۱) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۹۰۷)