کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 595
2۔آیت: ﴿فَکَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْن﴾ میں’’اَلْقَانِتَاتِ‘‘ کے بدلے ﴿اَلْقٰنِتِیْن﴾ استعمال ہوا ہے۔ 3۔آیت: ﴿وَ مَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْن﴾ میں’’ناصر‘‘ کے بدلے ﴿نٰصِرِیْن﴾ استعمال ہوا ہے۔ 3۔کبھی ایک حرف کو دوسرے حرف کی جگہ لاتے ہیں۔اس کی مثالیں یہ ہیں : 1۔آیت: ﴿فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ﴾ میں’’عَلیٰ الْجَبَلِ‘‘ کے بدلے ﴿لِلْجَبَلِ﴾ بولا ہے۔ 2۔آیت: ﴿ھُمْ لَھَا سٰبِقُوْنَ﴾ میں’’إِلَیْھَا سَابِقُوْنَ‘‘ کے بدلے ﴿لَھَا سٰبِقُوْنَ﴾ استعمال ہوا ہے۔ 3۔آیت: ﴿لَاُصَلِّبَنَّکُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ﴾ میں’’عَلیٰ جُذُوْعِ النَّخْلِ‘‘ کے بدلے ﴿فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ﴾ بولا ہے۔ 4۔آیت: ﴿اَمْ لَھُمْ سُلَّمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْہِ﴾ میں’’یَسْتَمِعُوْنَ عَلَیْہِ‘‘ کے بدلے ﴿یَسْتَمِعُوْنَ فِیْہ﴾ استعمال ہوا ہے۔ 5۔آیت: ﴿ اَلسَّمَآئُ مُنْفَطِرٌم بِہٖ﴾ میں’’مُنْفَطِرٌ فِیْہِ‘‘ کے بدلے ﴿مُنْفَطِرٌم بِہ﴾ استعمال ہوا ہے۔ 6۔آیت: ﴿مُسْتَکْبِرِیْنَ بِہ﴾ میں’’عَنْہُ‘‘ کے بدلے ﴿بِہ﴾ بولا گیا ہے۔ 7۔آیت: ﴿اَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بِالْاِثْم﴾ میں’’عَلیٰ الْاِثْمِ‘‘ کے بدلے ﴿بِالْاِثْم﴾ استعمال ہوا ہے۔ 4۔کبھی ایک جملے کو ایک دوسرے جملے کی جگہ لے آتے ہیں،مثلاً ایک جملہ دوسرے جملے کے حاصلِ مضمون پر دلالت کرتا ہے اور اس کی موجودگی کا سبب ہوتا ہے تو پہلے جملے کو دوسرے جملے سے بدل دیا جاتا ہے،جیسے 1۔آیت: ﴿وَ اِنْ تُخَالِطُوْھُمْ فَاِخْوَانُکُمْ﴾ کا مطلب ہے’’اِنْ تُخَالِطُوْھُمْ لَا بَأْسَ بِذٰلِکَ لِأَنَّھُمْ إِخْوَانُکُمْ،وَشَأْنُ الْأَخِ أَنْ یُّخَالِطَ أَخَاہُ‘‘ [اگر تم ان کو اپنے ساتھ ملا لو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے،کیونکہ وہ تمھارے بھائی ہیں اور بھائی کی صفت ہے کہ وہ اپنے بھائی کو اپنے ساتھ ملا لیتا ہے] اس آیت میں’’لَا بَأْسَ بِذٰلِکَ‘‘ کے بدلے ﴿فَاِخْوَانُکُمْ﴾ استعمال ہوا ہے۔