کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 590
عادت تھی کہ اپنے سے پہلے نیک لوگوں کے ناموں پر اپنے بچوں کے نام رکھتے تھے۔[1] اسی طرح جب یہ سوال کیا گیا کہ قیامت کے دن آدمی اپنے چہرے کے بل کیسے چلے گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ الَّذِيْ أَمْشَاہُ فِيْ الدُّنْیَا عَلیٰ رِجْلَیْہِ لَقَادِرٌ أَنْ یُّمْشِیَہٗ عَلیٰ وَجْھِہِ)) [2] [وہ (اللہ) جس نے دنیا میں اس (آدمی) کو اس کی ٹانگوں پر چلایا،یقینا وہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ اسے اس کے چہرے کے بل چلا دے] اور جیسے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے لوگوں نے پوچھا کہ ایک آیت میں تو آیا ہے: ﴿لَا یَتَسَآئَلُوْنَ ﴾ [القصص: ۶۶] [وہ ایک دوسرے سے سوال نہیں کریں گے] جب کہ دوسری آیت میں آیا ہے: ﴿وَاَقْبَلَ بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَسَآئَ لُوْنَ﴾ [الصآفات: ۲۷] [اور ان کے بعض بعض کی طرف متوجہ ہوں گے،ایک دوسرے سے سوال کریں گے] انھوں نے جواب دیا کہ ایک دوسرے سے سوال نہ کرنا یہ میدانِ محشر میں ہوگا اور سوال کرنا جنت میں داخل ہونے کے بعد ہو گا۔[3] عائشہ رضی اللہ عنہا سے لوگوں نے پوچھا کہ اگر صفا و مروہ کی سعی واجب ہے تو پھر قرآن میں : ﴿فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا﴾ کیوں آیا ہے؟ اماں جی نے جواب دیا کہ ایک قوم نے صفا اور مروہ کی سعی میں حرج محسوس کرتے ہوئے اجتناب کیا،تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِاعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَاِنَّ اللّٰہَ شَاکِرٌ عَلِیْم﴾ [البقرۃ: ۱۵۸] [بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں،تو جو کوئی اس گھر کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ دونوں کا خوب طواف کرے اور جو کوئی خوشی سے کوئی نیکی