کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 585
محدثین کے نزدیک اصح التفاسیر: محدثین کے نزدیک اصح التفاسیر وہ ہے جسے بخاری،ترمذی اور حاکم رحمہ اللہ علیہم نے اسبابِ نزول اور توجیہِ مشکل کو اپنی تفسیروں میں صحیح اسناد کے ساتھ بیان کیا ہے اور انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یا تابعین عظام رحمہ اللہ علیہم تک پہنچایا ہے۔مفسر کے لیے ان آثار (روایات) کا یاد رکھنا ضروری ہے۔آیات کے معانی سمجھنے میں اکثر اسباب نزول کی ضرورت نہیں،البتہ ان قصوں کا کچھ دخل ضرور ہے۔اکثر آیات اپنے مواقع اور موارد پر مقصور نہیں ہیں،بلکہ عمومِ لفظ کا اعتبار ہوتا ہے نہ کہ خصوصِ سبب کا۔ محمد بن اسحاق،واقدی اور کلبی نے ہر آیت کے تحت جو قصہ بیان کیا ہے،انھوں نے افراط سے کام لیا ہے۔محدثین کے نزدیک ان کا اکثر حصہ صحیح نہیں ہے اور جو اسانید پیش کی ہیں،وہ محلِ نظر ہیں۔ان لوگوں کی اس زیادتی کو تفسیر کے لیے ضروری سمجھنا صریح غلطی ہے۔جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن فہمی اس کے یاد رکھنے پر موقوف ہے،ان کو قرآن سے کچھ حاصل نہ ہو گا۔ [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۱۴۰۴)