کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 584
سوال کا جواب کلامِ سابق کو واضح کرنے کے ارادے سے دیا جاتا ہے۔گو اس زمانے میں نہ کسی نے شبہہ ظاہر کیا ہوتا ہے اور نہ کسی نے کوئی سوال۔بہت دفع ایسا ہوا ہے کہ ایسے موقع پر جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم گفتگو کرتے تو کوئی سوال وہ بہ طور خود کرتے اور مطلب کو سوال و جواب کی صورت میں بیان کر دیتے۔اگر ہم غور کر کے تحقیق و تلاش سے ان کی ساری گفتگو جمع کر لیں تو وہ سب باہم متصل و مربوط معلوم ہوں گی،جس میں ترتیبِ نزول کے لحاظ سے مقدم یا موخر کہنے کی گنجایش نہیں رہے گی۔یہ گویا ایسا منظم جملہ ہو گا جس کی حد بندی کا تجزیہ کسی قاعدے سے نہیں ہو سکتا۔ رتبے میں تقدم و تاخر: بعض اوقات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تقدیم و تاخیر کا ذکر کرتے ہیں تو اس سے ان کی مراد مرتبے کے لحاظ سے تقدیم و تاخیر ہوتی ہے،جیسے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے آیت: ﴿وَ الَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّھَبَ وَ الْفِضَّۃَ﴾ کے بارے میں کہا کہ یہ آیت زکات نازل ہونے سے پہلے کی ہے۔پھر جب زکات نازل ہوئی تو اللہ نے اسے اموال کے لیے پاک ہونے کا ذریعہ بنایا۔[1] حالانکہ یہ بات تو معلوم ہے کہ مذکورہ بالا آیت سورۃ البراء ہ کی ہے،جو سب سورتوں کے بعد نازل ہوئی،اس لیے یہ آیت ان واقعات میں سے ہے جو سب سے متاخر ہیں۔جب کہ زکات اس سے کئی سال پہلے فرض ہوئی،مگر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مراد یہاں یہ بات کہنے سے یہ ہے کہ اجمال کا مرتبہ تفصیل کے مرتبے سے مقدم ہوتا ہے۔ دو شرطیں : حاصل یہ کہ مفسر کے لیے جو امور ضروری ہیں وہ صرف دو قسم کے ہیں۔ایک یہ کہ غزوات وغیرہ کے واقعات کا علم ہو،جن کی خصوصیات کی طرف مختلف آیتوں میں اشارے پائے جاتے ہیں،کیوں کہ جب تک یہ علم نہ ہو،تب تک متعلقہ آیات کی حقیقت تک رسائی نہیں ہو سکتی۔ دوسرے یہ کہ بعض قیود کے فوائد اور بعض مقامات پر سختی کے اسباب سے واقفیت ہو اور یہ بات کیفیتِ نزول کا علم ہونے پر موقوف ہے۔یہ دوسری بحث در حقیقت’’فنونِ توجیہ‘‘ میں سے ایک فن ہے۔توجیہ کے معنی ہیں کلام کی صورتِ اصل کو دکھانا۔ [1] الإتقان (۱/ ۴۰۹) البرھان (۱/ ۴۵۴)