کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 583
کے قریب ہی نازل ہوئی ہو۔خاص موقع پر ظاہر کرنے سے ان کا مقصد اس کی تخصیص کا اظہار کرنا نہیں ہوتا۔صرف یہ غرض ہوتی ہے کہ یہ صورت ان امورِ کلیہ کے لیے ایک اچھی مثال ہے۔اس ضمن میں اکثر اوقات ان کے اقوال میں باہم اختلاف ہوتا ہے اور ہر ایک کی بات ایک جانب کو جھکتی ہوئی دکھائی دیتی ہے،مگر اصل میں سب کے مقاصد متحد ہوتے ہیں۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے اسی نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ کوئی شخص فقیہ نہیں ہو سکتا،جب تک اس میں ایک آیت کو متعدد مواقع پر اطلاق کرنے کا ملکہ پیدا نہ ہو جائے۔[1] دو صورتیں : اسی بنا پر قرآن مجید میں یہ اسلوب بہ کثرت اختیار کیا گیا ہے،اس کی دو صورتیں ہیں : ایک سعید کی،اس کے تحت سعادت کے بعض اوصاف بیان کیے گئے ہیں۔دوسری شقی کی،جس کے تحت بعض اوصافِ شقاوت مذکور ہیں۔عام طور پر اس سے غرض ان اوصاف و اعمال کے احکام کا بیان ہے،کسی شخص کی طرف تعریض یا اشارہ کرنا مقصود نہیں ہوتا۔اس صورت میں یہ ضروری نہیں کہ کسی شخص میں بعینہٖ وہی خصوصیات پائی جاتی ہوں،چنانچہ درجہ ذیل آیت میں ایک بیج سے متعلق ارشاد فرمایا ہے: ﴿کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنْبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ﴾ [البقرۃ: ۲۶۱] [ایک دانے کی مثال کی طرح ہے،جس نے سات خوشے اگائے،ہر خوشے میں سو دانے ہیں ] اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر بیج یا دانہ اس صفت کا ہو،بلکہ اس سے مقصد تو صرف اجر و ثواب کی زیادتی کی تصویر کشی ہے۔اگر کوئی صورت ایسی ہو جس میں بہت سی یا سبھی خصوصیات میں توافق پایا جائے تو وہ’’لزوم ما لا یلتزم‘‘ [جس کا چسپاں ہونا ضروری نہیں تھا،مگر چسپاں ہو گیا یعنی: ہم خرما ہم ثواب] میں شمار ہو گی۔ فرضی سوال و جواب بعض اوقات کسی ایسے شبہے کو دور کیا جاتا ہے،جو بہ ظاہر پیدا ہو سکتا ہے یا کسی قریب الفہم [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۴۲۱۵)