کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 570
ہیں،جنھیں شہری،بدوی،عرب اور غیر عرب سب یکساں طور پر سمجھ سکیں۔لہٰذا ان روحانی نعمتوں کا ذکر نہیں کیا گیا،جو علما اور اولیا کے ساتھ مخصوص ہیں۔نیز ان نفع بخش نعمتوں کا بھی بیان نہیں کیا گیا،جو بادشاہوں کو خاص طور پر میسر ہیں۔اللہ تعالیٰ نے صرف انھی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے،جن کا ذکر عوام کے لیے مفید ہو سکتا ہے،مثلاً آسمان اور زمین کی پیدایش،ابر سے پانی برسانا،چشمے جاری کرنا،بارش کے ذریعے سے طرح طرح کے پھول،پھل اور اناج اگانا،کار آمد صنعتوں کا الہام اور ان کے چلانے پر قادر ہونا۔اکثر مقامات میں ہجوم مصائب پر اور ان کے دفع ہونے کے وقت انسان پر مختلف احوال و کیفیات کا ہونا بہ طور تنبیہ بیان کیا گیا ہے،کیوں کہ امراض نفسانیہ اکثر انھی سے پیدا ہوتے ہیں۔ تذکیر باَیام اﷲ: ایام اللہ یعنی وہ واقعات جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فرماں بردار بندوں کے لیے بہ طور انعام اور نافرمانوں کے لیے بہ طور عذاب پیدا کیے،ان میں انھی واقعات کا انتخاب کیا گیا ہے،جنھیں عوام پہلے سے اجمالاً سنتے آ رہے تھے،جیسے قومِ نوح،قومِ عاد اور قومِ ثمود کے قصے۔نیز ابراہیم علیہ السلام اور انبیاے بنی اسرائیل کے قصے ہیں۔غیر مانوس،ایرانیوں اور ہندوؤں کے باہمی مقابلوں کے واقعات بیان نہیں کیے گئے اور مشہور و معروف قصوں میں سے بھی وہی حصے لیے گئے،جو سبق آموز تھے۔تمام قصے پوری تفصیل سے بیان نہیں کیے گئے۔ قصوں کے بیان کی حکمت: ان قصوں کے بیان میں حکمت و مصلحت یہ ہے کہ جب عوام عجیب و غریب قصے سنتے ہیں اور قصے کے تمام پہلو ان کے سامنے واضح کیے جاتے ہیں تو نفسِ قصہ کی طرف ان کا میلان ہوتا ہے اور سبق آموزی کا اصلی مقصد فوت ہو جاتا ہے۔اسے یوں سمجھ لو جیسے کسی عارف نے کہا ہے کہ جب سے لوگوں نے تجوید کے قواعد سیکھے ہیں،قرآن مجید کی خشوع و خضوع کے ساتھ تلاوت سے محروم ہو گئے ہیں اور جب سے مفسرین تفسیر کرنے میں بعید وجوہ کی تلاش میں چل پڑے،تب سے علمِ تفسیر ایک ایسی نادر چیز ہو گئی ہے،جو نایاب ہے۔