کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 57
صحیحِ نیت کا بیان عبادت دو قسم کی ہے: 1۔ایک وہ جو قربتِ محض ہے،جیسے نماز،روزہ،زکات،حج،تلاوتِ قرآن مجید اور تسبیح و تہلیل وغیرہ۔اس میں صحتِ عبادت کے لیے نیت کا ہونا بالاتفاق شرط ہے۔اگر نیت نہ ہو گی تو اس کا قضا کرنا واجب ہو گا۔ 2۔دوسری وہ جو کسی دوسری عبادت کا وسیلہ ہو،جیسے وضو،غسل،اذان،اقامت اور تعلیمِ قرآن وغیرہ۔اس میں احناف کے نزدیک نفس الامر میں نیت شرط نہیں ہے،بلکہ اس لیے شرط ہے کہ یہ عبادت مستوجبِ ثواب ہوتی ہے،جبکہ شافعیہ کے نزدیک شرط ہے اور یہی موقف راجح ہے۔ اس کی دلیل عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی یہ حدیث ہے: ((إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ،وَ إِنَّمَا لِکُلِّ امْرِیٍٔ مَا نَوٰی))[1] (الحدیث رواہ الشیخان بالاتفاق،وھذا أعلیٰ أنواع الصحۃ) [تمام اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو وہی کچھ ملے گا جو اس نے نیت کی] دوسری دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿وَمَآ اُمِرُوْٓا اِِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ﴾ [البینۃ: ۵] [اور انھیں اس کے سوا حکم نہیں دیا گیا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں،اس حال میں کہ اس کے لیے دین کو خالص کرنے والے ہوں ] مذکورہ بالا حدیث اور آیت اسلام کے بنیادی اصول میں سے ہے۔ امام سیوطی رحمہ اللہ نے’’الإتقان‘‘ میں لکھا ہے: ’’لا تحتاج قراء ۃ القرآن إلی نیۃ کسائر الأذکار والأوراد إلا إذا نذرھا خارجَ الصلاۃِ‘‘[2]انتھیٰ۔ [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۱) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۹۰۷) [2] الإتقان في علوم القرآن (۱/۲۸۲)