کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 566
کی طرف اٹھائے جانے کو ان کا قتل ہونا گمان کر لیا ہے۔نسل در نسل ان میں یہی غلط روایت چلی آتی ہے۔ 3۔ان کی گمراہی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ فار قلیط (محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ نام جو انجیل میں آیا ہے،مسلمان اس کے لغوی معنی احمد اور عیسائی روح القدس بتاتے ہیں) سے عیسیٰ علیہ السلام ہی مراد ہیں،جو قتل ہونے کے بعد حواریوں کے پاس آئے اور انھیں انجیل کو مضبوط تھامنے کی وصیت کی۔ اس امت میں نصاریٰ کا نمونہ: اگر آپ آج نصاریٰ کانمونہ دیکھنا چاہتے ہیں تو مشائخ و اولیا کو دیکھ لیں کہ وہ اپنے آبا و اجداد کے متعلق کس قسم کے گمان رکھتے ہیں اور انھوں نے ان کی شان و مقام میں کس مبالغہ آمیزی سے کام لیا ہے۔نیز ان کا نمونہ ان جاہل صوفیوں میں دکھائی دیتا ہے،جو توحیدِ وجودی (عقیدہ وحدۃ الوجود) کے قائل ہیں اور انھوں نے خالق سبحانہ و تعالیٰ کے حق میں کس قسم کا باطل عقیدہ گھڑ رکھا ہے۔انھوں نے ایسے کام میں غور و خوض شروع کر رکھا ہے،جس کا انھیں حکم نہیں دیا گیا اور انھوں نے باطن کو ظاہر شریعت کے برابر ٹھہرا دیا ہے۔فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اَیَّ مُنقَلَبٍ یَّنقَلِبُوْنَ﴾ [الشعراء: ۲۲۷] [عن قریب وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا،جان لیں گے کہ وہ لوٹنے کی کون سی جگہ لوٹ کر جائیں گے] منافقین کی گمراہی اور ان کی اقسام: منافقین کی دو قسمیں ہیں : 1۔ایک قسم تو وہ گروہ ہے جو زبان سے کلمۂ ایمان پڑھتے ہیں،مگر ان کے دل کفر پر مطمئن ہوتے ہیں اور وہ اپنے دلوں میں خالص انکار چھپائے ہوئے ہیں۔ان کے حق میں فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّار﴾ [النسآء: ۱۴۵]