کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 563
اعمال سے یوں غائب ہوئے،جیسے یہ کبھی تھے ہی نہیں۔اسی طرح وہ اس ملت کے محرمات کا ارتکاب کرتے تھے اور ان میں نفسِ امارہ کی پیروی کرتے تھے۔ان الہٰی اور نبوی عقائد میں جمہور مشرکین کے لیے بہت سے شبہات،جو ان امور کو خارج از امکان سمجھنے اور ان کے ادراک کے ساتھ عدمِ دلچسپی ہونے سے پیدا ہوئے تھے،فراہم ہو چکے تھے۔ان کی گمراہیاں درج ذیل تھیں : 1۔شرک۔ 2۔تشبیہ۔ 3۔تحریف۔ 4۔آخرت کا انکار۔ 5۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو ناممکن سمجھنا۔ 6۔برے اعمال اور آپس کے مظالم کو ظاہر کر کے ان کا چرچا کرنا۔ 7۔فاسد رسموں کو ایجاد کرنا۔ 8۔عبادات کو مٹا دینا۔ مشرکین کی صورتِ حال کا دور حاضر میں مشاہدہ: اگر آپ مشرکین کی صورت حال،ان کے عقائد و اعمال کا مشاہدہ کرنا چاہیں تو اس دور کے عوام اور جہلا کے احوال پر نگاہ دوڑا لیجیے،خاص طور پر وہ لوگ جو دارالاسلام کے اَطراف میں سکونت پذیر ہیں کہ وہ ولایت کو کیا خیال کرتے ہیں۔وہ اولیا متقدمین کی ولایت کے باوجود اس زمانے میں اولیا کے وجود کو محال سمجھتے ہیں۔وہ قبروں اور آستانوں پر جاتے ہیں اور انواع و اقسام کے شرک کرتے ہیں،ان میں کس طرح تشبیہ اور تحریف در آئی ہے۔ایک حدیث صحیح: ((لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ حَذْوَالنَّعْلِ بِالنَّعْلِ)) [1] [تم پہلے لوگوں کے طریقے پر چل پڑو گے (تم ان کے ساتھ یوں برابر ہو جاؤ گے) جیسے ایک جوتا دوسرے جوتے کے برابر ہوتا ہے] کے مصداق ان آفات میں سے کوئی ایسی آفت باقی نہیں رہی،مگر آج اس کا ارتکاب کرنے