کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 558
قرآن کریم کے مطالب کی عدمِ ترتیب: مطالب و مفاہیم کو قرآن مجید کی سورتوں میں بیان کر دیا گیا ہے،ترتیب کی رعایت نہیں کی گئی۔پہلے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر کیا گیا اور اس کا خوب حق ادا کیا گیا۔اس کے بعد اَیام اللہ (تاریخِ عالم کے عبرت ناک ایام) کامکمل تذکرہ کیا گیا۔اس کے بعد کفار کے ساتھ مخاصمے کو بیان کیا گیا،کیوں کہ قدرتِ الہٰی اگرچہ تمام ممکنات کو شامل ہے،لیکن ان مضامین و ابواب میں حکمت یہ ہے کہ زبان اور اسلوبِ بیان میں ان لوگوں کی موافقت کی جائے،جن کی طرف یہ قرآن مجید نازل ہوا ہے۔مندرجہ ذیل آیتِ کریمہ میں اسی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔فرمانِ خداوندی ہے: ﴿وَلَوْ جَعَلْنٰہُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْلاَ فُصِّلَتْ اٰیٰتُہٗ ئَ اَعْجَمِیٌّ وَّعَرَبِیٌّ قُلْ ھُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ھُدًی وَّشِفَآئٌ وَالَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ فِیْٓ اٰذَانِھِمْ وَقْرٌ وَّھُوَ عَلَیْھِمْ عَمًی اُوْلٰٓئِکَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّکَانٍم بَعِیْد﴾ [حمٓ السجدہ: ۴۴] [اور اگر ہم اسے عجمی قرآن بنا دیتے تو یقینا وہ کہتے اس کی آیات کھول کر کیوں نہ بیان کی گئیں،کیا عجمی زبان اور عربی (رسول) ؟ کہہ دے یہ ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہدایت اور شفا ہے اور وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں بوجھ ہے اور یہ ان کے حق میں اندھا ہونے کا باعث ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جنھیں بہت دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے] قرآن مجید کے نزول تک عربوں کے پاس کوئی کتاب موجود نہ تھی۔کتابِ الہٰی اور نہ کسی بشر کی تالیف۔وہ ترتیب جو اِس وقت کے مصنفین نے ایجاد کی ہے،عرب اس کو نہیں جانتے تھے۔اگر آپ اس بات کو باور نہیں کرتے تو آپ مخضرمین شعراء (جنھوں نے زمانہ جاہلیت اور زمانہ اسلام دونوں میں شاعری کی) کے قصائد پر غور و خوض کریں۔نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط اور عمر رضی اللہ عنہ کے مکاتیب پڑھیں تو یہ بات واضح ہو جائے گی۔ لہٰذا اگر ان لوگوں کے طور طریقے کے خلاف بات کی جاتی تو وہ لوگ حیرت میں مبتلا ہو جاتے۔ایک ناآشنا چیز ان کے کانوں تک پہنچتی تو وہ ان کے فہم کو الجھن اور تشویش میں ڈال دیتی۔نیز اس انداز سے مقصود محض فائدہ پہنچانا نہ تھا،بلکہ استحضار و تکرار کے ساتھ فائدہ پہنچانا مقصود تھا،لہٰذا