کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 555
متفق ہیں،اگرچہ مصرعے پر توافقِ اَجزا و اَبیات میں قافیہ مشترکہ کی شروط میں مختلف مذاہب ہیں اور رسوم ایک دوسری کی ضد ہیں۔ عربوں کے ہاں ایک قانون ہے،جس کی خلیل نے وضاحت کی ہے۔ہندوؤں کے ہاں ایک رسم ہے،ان کا طریقہ سلیقہ اس کے مطابق ہے۔اسی طرح ہر دور کے لوگوں نے ایک وضع اختیار کی ہے اور اس کے راہی بنے ہیں۔جب ہم ان رسوم اور مذاہب سے کوئی جامع امر نکالیں اور ان بکھری ہوئی اشیا کے سرنہاں پر غور کریں تو وہ ظن و تخمین کے سوا کسی چیز سے موافق نہیں ہو گا۔اس کشید کردہ راز کے ساتھ عقل کا اجمالی تعلق تو ہو سکتا ہے،تفصیلی نہیں۔مسلسل قافیوں اور ذوقِ سلیم کی اس خالص شیرینی کے ساتھ دوستی ہے نہ کہ بحرِ طویل کے ساتھ۔ فائدہ: خلاق علیم اللہ تعالیٰ نے جب اس مشت خاک (انسان) سے ہم کلام ہونا چاہا تو اس نے اس اجمالی حسن پر نظر رکھی نہ کہ ان مستحسن قوالب پر جو ایک قوم کے ہاں مسلم ہیں،مگر دوسروں کے ہاں نہیں۔مالک الملک نے جو آدمیوں کے طریقے پر کلام کرنے کا ارادہ کیا تو اس بسیط اصل کو اختیار کیا نہ کہ ان قوانینِ متغیرہ کو جو اَدوار و اَطوار کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔قوانینِ مصطلحہ کا تمسک جہل و عجز کی پیداوار ہے اور ان قواعد کے توسط کے بغیر حسنِ اجمالی کو اس طریقے سے تھامنا ہے کہ پستیوں اور بلندیوں میں بیان ہاتھ سے نہ چھوٹے اور ہر نشیب و فراز میں عاجز و ساکت ہو کر کلام ضائع نہ ہو۔پس حق سبحانہ و تعالیٰ کے اس طریقے پر چلنے سے ہم ایک اصل اور بنیاد کشید کرتے ہیں اور ایک قاعدے کے ساتھ اس کا انتقال ثابت کرتے ہیں۔وہ قاعدہ یہ ہے کہ اکثر سورتوں میں امتدادِ صوت (آواز کو لمبا کرنا) کو معتبر سمجھا گیا ہے نہ کہ بحر طویل و مدید وغیرہ کو۔فواصل میں سانس کے انقطاع کو مدہ کے ساتھ اور اس کے ساتھ جس پر مدہ قرار پکڑتا ہے،معتبر بنایا گیا ہے نہ کہ فنِ قوافی کے قواعد کو۔سانس کے اس امتداد کے لیے تین قسم کے وزن بنائے گئے ہیں : 1۔طویل،جیسے سورۃ النساء ہے۔ 2۔متوسط،جیسے سورۃ الاعراف اور سورۃ الانعام ہے۔ 3۔قصیر،جیسے سورۃ الشعراء اور سورۃ الدخان ہے۔