کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 551
قرآنی سورتوں کی تقسیم: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہاں قرآن مجید کی سورتیں چار قسموں پر تقسیم ہوئیں : 1۔پہلی قسم کی وہ سورتیں ہیں،جنھیں’’سبع طوال‘‘ (سات لمبی سورتیں) کہا جاتا ہے اور یہ قرآن مجید کی سب سے لمبی سورتیں ہیں۔ 2۔دوسری قسم میں وہ سورتیں ہیں،جنھیں’’مئین‘‘ کا نام دیا گیا،یعنی وہ سورتیں جن کی آیات کی تعداد ایک سو یا سو سے کچھ زیادہ ہے۔ 3۔تیسری قسم کی سورتیں’’مثاني‘‘ کہلاتی ہیں،جن کی آیات سو سے کم ہیں۔ 4۔چوتھی قسم کی سورتوں کو’’مفصل‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس ترتیب میں دو تین سورتیں ایسی ہیں،جو از قسم مثانی ہونے کے باوجود مئین میں شامل کی گئی ہیں،کیوں کہ ان کا سیاق مئین کے سیاق سے ملتا جلتا ہے۔اسی طرح بعض اقسام میں کچھ تصرف ہوا ہے۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے اسی مصحف سے کچھ اور مصحف لکھوائے اور مختلف ملکوں میں روانہ کر دیے،تاکہ لوگ ان مصاحف سے استفادہ کریں اورکسی اور ترتیب کی طرف میلان نہ کریں۔ سورتوں کے اسلوب کی شاہی مکاتیب سے مشابہت: قرآن مجید کی سورتوں کا اسلوب بادشاہوں کے فرامین کے ساتھ مکمل مناسبت رکھتا ہے۔اس میں ابتدا و انتہا کے اعتبار سے خطوط کی رعایت پائی جاتی ہے،لہٰذا جس طرح بادشاہ لوگ بعض خطوط کو خدا تعالیٰ کی حمد سے شروع کرتے ہیں،بعض کو ان کے لکھنے کی غرض سے شروع کرتے ہیں،بعض کو خط بھیجنے والے اور جس کی طرف بھیجا جا رہا ہے،ان کے نام سے شروع کیا جاتا ہے،بعض رقعے اور خط بغیر عنوان کے ہوتے ہیں،بعض خطوط لمبے ہوتے ہیں اور بعض مختصر۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بعض سورتوں کو حمد یا تسبیح سے شروع کیا اور بعض کو ان کی غرض و غایت کے بیان سے شروع کیا،چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿سُورَۃٌ اَنْزَلْنٰھَا وَفَرَضْنٰھَا﴾ [النور: ۱] [1] لیکن قرآن کی ترتیب میں یہ امتیاز ہے کہ اسے اﷲ تعالیٰ ہی کے حکم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ترتیب دیا تھا۔