کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 541
فأنیٰ لنا فلک یطیر ولیتہ یطیر بنا عما نراہ غراب [ہمیں اڑنے والی کشتی کہاں سے میسر آئے؟ کاش! ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں،ہم اس سے پہلے ہی بوڑھے ہوجاتے] وأین إلی أین المطار وکلھا علی ظہرہا یأتیک من عجاب [اس کی پرواز کہاں سے کہاں تک ہے،ہر وہ چیز جو اس کے اوپرسوار ہے،تجھے اس سے عجیب و غریب چیزیں دیکھنے کو ملتی ہیں ] نسائل مَنْ دار البلاد سیاحۃ عسی بلدۃ فیھا ہدی وصواب [ہم اس امید پر اس شخص سے دریافت کرتے ہیں،جو ملکوں میں گھوما پھرا،شاید کسی ملک میں رشد و ہدایت مل جائے] فیخبر کلٌ عن عجائب ما رآی ولیس لأہلیھا یکون متاب [ہر شخص اپنی دیکھی ہوئی عجیب و غریب چیزوں کے بارے میں خبر دیتا ہے اور وہاں کے باسیوں کا توبہ کا کوئی ارادہ نہیں ہے] لأنہم عدوا قبائح فعلہم محاسن یرجی عندھن ثواب [کیوں کہ انھوں نے اپنے برے اعمال کو اچھے اعمال شمار کیا ہے اور ان سے ثواب کی امید رکھی ہوئی ہے] کقوم عراۃ في ذری مصر ما علا علیٰ عورۃ منہم ہناک ثیاب [جیسے کسی شہر میں ننگے لوگ ہوں اور ان کی شرم گاہ پر کپڑے نہ ہوں ] یدورون فیھا کاشفي عوراتہم تواتر ھٰذا لا یقال کذاب [وہ اپنی شرمگاہوں کو کھول کر اس میں گھومتے ہیں اور یہ بات تواتر سے ثابت ہے،اس کو جھوٹا نہیں کہا جا سکتا] یعدونھم في مصرہم فضلاء ہم دعاؤھم في ما یرون عجاب [وہ ان لوگوں کو اپنے شہر میں اپنے فضلا اور اکابر سمجھتے ہیں اور ان کی دعاؤں کو قبول ہونے والی شمار کرتے ہیں ]