کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 535
بے حد بخشنے والا نہایت بردبار ہے۔بے شک تم سے پہلے ان کے بارے میں کچھ لوگوں نے سوال کیا،پھر وہ ان سے کفر کرنے والے ہو گئے] مزید فرمایا ہے: ﴿اِنِّیْ مُنَزِّلُھَا عَلَیْکُمْ فَمَنْ یَّکْفُرْ بَعْدُ مِنْکُمْ فَاِنِّیْٓ اُعَذِّبُہٗ عَذَابًا لَّآ اُعَذِّبُہٗٓ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْن﴾ [المائدۃ: ۱۱۵] [یقینا میں اسے تمھارے اوپر اتارنے والا ہوں،پھر جو اس کے بعد تم میں سے ناشکری کرے گا تو بے شک میں اسے عذاب دوں گا،ایسا عذاب کہ وہ جہانوں میں سے کسی ایک کو نہ دوں گا] ان آیات میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بعض اوقات علم کی زیادتی عذاب کی زیادتی کا باعث بنتی ہے۔پس بہت سے علوم و فنون کے بیان میں مخلوق کی مصلحت کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے۔چنانچہ اللہ عز و جل نے مندرجہ ذیل فرمان میں اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے: ﴿وَ مَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّآ اَنْ کَذَّبَ بِھَا الْاَوَّلُوْنَ﴾ [بني إسرائیل: ۵۸] [اور ہمیں کسی چیز نے نہیں روکا کہ ہم نشانیاں دے کر بھیجیں مگر اس بات نے کہ پہلے لوگوں نے انھیں جھٹلا دیا] اس آیتِ کریمہ کے سببِ نزول کے بارے میں سیدنا ابن عباس اور سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے دو احادیث مروی ہیں۔دونوں روایتوں کے راوی صحیح ہیں۔امام ہیثمی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب’’مجمع الزوائد‘‘ میں سورت ہود اور اسراء کی تفسیر میں ان کو جدا جدا نقل کیا ہے۔[1] قرآن میں تمام مسائل کا حل موجود ہے: لہٰذا جب یہ معنی ثابت ہو گئے تو کتاب اللہ کی طرف رجوع کرنا واجب ٹھہرا،کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہمارے مصالح و مفاسد کو خود ہم سے زیادہ جانتی ہے،اس لیے کہ اللہ علیم و خبیر کا فرمان ہے: ﴿وَ اللّٰہُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْن﴾ [البقرۃ: ۲۱۶] [اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے]