کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 527
مقدمہ کتاب عزیز۔أدام اللہ ظلہ علی أہلیہ۔کی تعریف و فضیلت اور عظمت کا بیان قرآن کی تعریف: لغت میں کتاب کا لفظ ہر’’تحریر‘‘ اور’’مکتوب‘‘ پر بولا جاتا ہے،جب کہ شرع شریف کے عرف میں اس لفظ سے قرآن کریم مراد لیا جاتا ہے۔لفظِ’’قرآن‘‘ لغت میں مصدر’’قراء ت‘‘ (پڑھنا) کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور عرف عام میں اس لفظ کا استعمال حق سبحانہ وتعالیٰ کے کلام کے اس معین مجموعے کے معنی میں غالب ہے،جو بندوں کی زبانوں سے پڑھا جاتا ہے۔لفظِ’’کتاب‘‘ کا بھی مشہور معنی یہی ہے۔اہلِ اصول کی اصطلاح میں کتاب اللہ کی کئی ایک تعریفیں کی گئی ہیں،لیکن ان میں سے کوئی بھی تعریف کسی اعتراض و اشکال سے خالی نہیں ہے۔البتہ ان تعریفوں میں سب سے بہتر تعریف یہ ہے،جو وہ بیان کرتے ہیں : ‘’ھو کلام اللّٰہ المنزل علیٰ محمد صلی اللّٰه علیہ وسلم،المتلو والمتواتر‘‘ [وہ اللہ کا کلام ہے،جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا ہے،جس کی تلاوت کی جاتی ہے اور وہ تواتر کے ساتھ ثابت ہے] کتاب اللہ کی یہ تعریف اعتراض سے خالی ہے۔وہ قراء ات جو بہ طریقِ آحاد منقول ہیں،ان کے متعلق اہلِ علم نے اختلاف کیا ہے۔بعض نے کہا ہے کہ وہ قرآن کا حصہ نہیں ہیں۔اصولیوں نے سات،بلکہ دس قراء توں کو متواتر شمار کیا ہے،لیکن اس پر کوئی علمی ثبوت منقول نہیں ہے،کیونکہ ان قراء توں میں سے ہر ایک قراء ت اخبارِ آحاد کے ساتھ وارد ہوئی ہے۔قرآن کی سندوں کو پہچاننے والوں نے اس موقف کو سراہا ہے اور قرا کی ایک جماعت سے اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ قراءتوں [1] سنن أبي داوٗد،رقم الحدیث (۳۶۵۸) سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۶۴۹) مسند أحمد (۲/۲۶۳)