کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 52
سورتوں اور آیتوں کی تعداد کا بیان اہلِ علم کے اجماع کے ساتھ قرآن مجید کی ایک سو چودہ یا تیرہ سورتیں ہیں،اگر انفال اور براء ت کو ایک ہی سورت ٹھہرائیں۔ان سورتوں میں سب سے افضل اور اعظم سورۃ الفاتحہ اور سورۃالاخلاص ہے۔ائمہ اعلام اور علماے محققین کا یہی قول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ الفاتحہ کو سبع مثانی اور قرآن عظیم فرمایا ہے اور قسم کھا کر کہا ہے کہ اس کے پائے کی سورت تورات میں آئی ہے نہ انجیل و زبور میں (اور نہ خود قرآن مجید میں) [1] اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ الاخلاص کو تہائی قرآن کے برابر ٹھہرایا ہے۔[2] مشہور قول کے مطابق کتاب اللہ کی چھے ہزار چھے سو چھیاسٹھ آیات ہیں۔ان میں سے عظیم تر،افضل اور اشرف آیۃ الکرسی ہے۔ سورۃ الفاتحہ،سورۃ الاخلاص اور آیۃ الکرسی کے بعد سورت یٰس،سورۃ الفتح،سورۃ الواقعہ،سورۃ الملک،سورۃالنبا،سورۃ الضحیٰ،سورت الم نشرح،سورۃ القدر،سورت لم یکن،سورت اذا زلزلت،سورۃ الکوثر،سورۃ الکافرون،سورت اذا جاء نصراللہ اور معوذتین کی فضیلت ہے۔ بعض آیات کی فضیلت احادیث میں بیان ہوئی ہے،جیسے ﴿اٰمَنَ الرَّسُوْلُ… الخ﴾ سورۃالانعام کی ابتدائی تین آیات،سورت براء ت کی آخری دو آیات،سورۃ الحشر کی آخری آیات اور ان کے علاوہ دیگر سورتیں اور آیات ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم،تابعین عظام رحمہ اللہ علیہم،علماے ربانیین اور اَسلاف و اَخلاف صالحین ان آیتوں اور سورتوں کو ہمیشہ دن رات تلاوت فرماتے اور ان کے فوائد و برکات بیان کرتے۔اپنی اولاد اور اخوان کو ان کے ہمیشہ پڑھنے کی نصیحت کیاکرتے،لیکن افسوس ہے کہ اکثر اہلِ اسلام نے قرآن کریم کی طرف توجہ اور اس کی تلاوت بالکل ترک کر دی ہے،حالانکہ لاکھوں قرآن اس تیرھویں صدی میں طبع ہو چکے ہیں۔اس کے فارسی و اردو تراجم اور عربی و فارسی تفاسیر ہر گاؤں،قصبے اور شہر میں [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۴۲۰۴) [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۴۷۲۷) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۸۱۱)