کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 515
خاتمۃ الطبع ازنتائج طبع عالی مہر سپہر بلند خیالی علامہ وحید مولانا ابوالفتح محمد عبدالرشید سلّمہ المجید میکدہ سخن کے کلید کی جنبش ستائش پسند خدا کی پسندیدہ ستایش کی مدد سے ہے۔یا رب! گو ہونٹ کی چسپیدگی کی افزایش اس یکتا اور بے مثل کی نیایش برکت کی شیرینی سے ہے اور چند صد چند۔بے نیازی کے کرشمے نے سرمہ دیدہ اطاعت کو شرمندگی کے ہاتھ میں ڈال رکھا ہے اور اس سے زیادہ بندہ نوازی نے جس سے زیادہ درمیان میں نہیں سما سکتی بندے کو ناامیدی کے پردے کی بندش سے باہر کر دیا ہے۔اس کے ساتھ روئے عشق محمدی کے گل کشادہ کی غالیہ سا جو حیاتِ جاودانی کی رگ نو بہار سے نافہ کشا ہے،سرورِ کائنات کی صلوات زاکیات ہے۔ایمان کی نعمت کے رنگ برنگ دستر خوان کی چاشنی جن کے ذائقے سے آسودوں کے تالو اور زبان آب در دہن ہیں،سید موجودات کی تحیات نامیات’’اللّٰہم صل وسلم وعلٰی آلہٖ سلالیم السلامۃ وأصحابہٖ اساطین الاستقامۃ‘‘ ہے۔ اس کے بعد صحیفہ مشکیں سواد نامہ آسمانی کے رقم خوانوں کے لیے بینائی کی افزایش کی خوشخبری ہے اور جلوہ شاہد سے بیخود روانی افزاے ایمان یمانی کے لیے نوید نقد ارزانی ہے کہ خدا کا دیا ہوا اور خزانے کا دروازہ کھلاہواہے۔وہ بغیر اس کے تمنا کی جان پر سو منت رکھے جا سکتے ہیں۔یہ اس کے باوجود کہ اس کے مرجان تولنے کا ترازو ہاتھ سے ہر دست بردہ ہوس کے ہاتھ میں دیا جاسکتا ہو درپیش ہے،یعنی اس کا وقت آپہنچا ہے کہ کتاب’’إفادۃ الشیوخ بمقدار الناسخ والمنسوخ‘‘ مٹھی بھر بھر کر پھول ہمیشہ چاپ کی بہار اہلِ عالم کے دامن میں دے اور دامن دامن مطالب دینیہ کے لعل وگہر عقل مندوں کی جیب وآغوش میں ڈالتی رہے۔ہر چند یہ گرامی نامہ اس سطر تبسم طبع سے پہلے صفحہ روزگار سے پڑھا گیا۔اس کے جلوہ جمال کے جاں دہندوں کے روبرو باریابی کا دروازہ کھول رکھاتھا،