کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 507
میں اس پر عمل میں تردد کیا ہے،بیرونی اسباب کی و جہ سے کیا ہے،جیسے تعارض کے ہوتے ہوئے صحت میں شک یاراوی میں الزام کی وجہ سے شک کرنا۔ آحاد کی کئی قسمیں ہیں : آحاد پر عمل کی کچھ راوی سے متعلق،کچھ مدلولِ خبر سے متعلق اور کچھ نفس لفظِ خبرسے متعلق شروط ہیں۔حدیث صحیح حجت ہے۔ان میں سے مرسل بھی ہے اور درست اسے قبول نہ کرنا ہے،اس اختلاف کے ساتھ جو اس میں واقع ہوا ہے۔حدیث منقطع حجت نہیں ہوگی۔جرح و تعدیل میں تعارض اور دونوں میں تطبیق کے عدمِ امکان میں کئی اقوال ہیں۔درست موقف اسے قبول کرنا ہے،کیونکہ اس میں اجتہاد کا موقع ہے اور جرح وتعدیل میں سبب کا ذکر ضرور ی ہے۔اس کے ذکر کے بعد خود راجح اور مرجوح میں تمییز مجتہد پر مخفی نہیں رہ جاتی۔عارف کی طرف سے مجمل جرح وتعدیل کے قبول کرنے کی تقدیر پر جرح،تعدیل پر مقدم ہوگی۔یہ سنت کا بیان ہے۔ اجماع: رہا اجماع تووہ امتِ محمدیہ کے مجتہدین کا آپ کی وفات کے بعد کسی زمانے میں کسی بات پر اتفاق کرلینے سے عبارت ہے۔اتفاق سے مقصود اعتقاد یا قول یا فعل میں اشتراک ہے۔مجتہدین کی قید سے عوام کا اتفاق باہر ہوگیا،کیونکہ اجماع میں ان کے اتفاق ومخالفت کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔وجوبِ تقلید پرجو اجماع نقل کرتے ہیں،وہ اسی نوعیت کا ہے،کیونکہ مجتہدین کا اجماع اس کی ممانعت پر ہے۔ نیز اس قید سے بعض مجتہدین کا اتفاق باہر ہوگیا۔عصر سے مقصود اس مسئلے کے پیدا ہونے کے وقت اہلِ اجتہاد کا زمانہ ہے۔کچھ نے اجماع کی حجیت میں مجتہدین کے زمانے کے گزرجانے اور مستقر کے خلاف پہلے سے نہ ہونے اور متفقین کی عدالت اور ان کے تواترکی معتبر عددکو پہنچنے کی شرط عائد کی ہے۔فی نفسہ اجماع کے امکان،اس کے علم کے امکان اور اس کے ہماری طرف نقل کے امکان میں اختلاف ہے۔حقیقت اس کا عدم ہے۔ان سب کو تسلیم کرنے کی تقدیر پر اس میں یہ اختلاف ہے کہ وہ حجت شرعی ہے یا نہیں ؟ جمہور کا مذہب اس کی حجیت ہے اور اس کی دلیل اکثر کے نزدیک صرف سمع ہے،عقل نہیں،جب کہ درست اس کی عدمِ حجیت ہے۔اگر تسلیم کرلیں کہ حجت ہے اور اس کا علم ممکن ہے تو اس بارے میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ مجمع علیہ حق ہوگا۔اس سے