کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 505
خاتمہ اصول شریعت اور باقی ماندہ دیگر امور کا بیان کتاب اﷲ: یہ سب،جو بیان کیا گیا ہے،کتاب وسنت کے ناسخ ومنسوخ کا بیان تھا۔علماے اصولِ فقہ نے کتابِ عزیز کی تعریف میں کئی تعریفوں کا ذکر کیا ہے،جن میں سے کوئی ایک بھی اعتراض سے خالی نہیں ہے۔اس کی سب سے بہترین تعریف یہ ہے: ‘’ھو کلام اللّٰہ المنزل علیٰ محمد المتلو المتواتر‘‘ [وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اﷲ کا منزل متلو متواتر کلام ہے] کیوں کہ اس تعریف پر،جو دیگر تعریفوں پر اعتراض وارد ہوتا ہے،کچھ بھی وارد نہیں ہوتا۔حدیث صحیح میں آیا ہے کہ قرآن کا نزول سات حروف پر ہوا ہے۔[1] اصولیوں نے اس سے سات حرفوں،بلکہ قراء تِ عشرہ کے تواتر کا دعویٰ کیا ہے۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے کچھ متواتر اور کچھ آحاد ہیں۔جن پر مصحف شریف مشتمل ہے اور قراء مشہورین نے اتفاق کیا ہے کہ وہ تو قرآن ہے اور مختلف فیہ میں اختلاف ہے۔حقیقت یہ ہے کہ’’بسم اللّٰہ‘‘ ہر سورت کی آیت ہے۔قرآن کے اندر محکم ومتشابہ کے ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ان میں سے ہر ایک کی تعریف کی گئی ہے۔محکم کا حکم اس پر عمل کا وجوب ہے اور متشابہ میں اختلاف ہے۔درست موقف اس پر عمل کا عدمِ جواز ہے اور متشابہ کو محکم کی طرف لوٹانا واجب ہے،جیسا کہ قرب ومعیت وغیرہ کی نصوص میں اﷲ کے استوا علے العرش اور اس کے علو و فوق کے اعتقاد کی طرف لوٹانا۔سلف نے کہا ہے کہ قرآن میں رومی،ہندی،فارسی اور سریانی وغیرہ ہر زبان کا کوئی لفظ ہے،جب کہ اکثریت نے اس کا انکار کیا ہے،لیکن کوئی قابل استدلال دلیل نہیں لائے۔یہاں تک کتاب اﷲ کا بیان ہے۔ [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۲۲۸۷) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۸۱۸)