کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 502
ہے اور اگر شریعت کی ترخیص پہلے کی شریعت کی ناسخ ہے تو منسوخ ہے اور اقرب اول ہے۔ ان میں سے جو ہم نے منسوخات کے شمار میں ذکر کیا ہے،کچھ ایسی چیز ہے جس کے ثبوت پر اجماع نہیں کیا گیا ہے،جیسے دس رضعات کا اعتبار،لیکن اب اس کے عدمِ اعتبار پر متفق ہیں۔تو جس کے نزدیک وہ ثابت شدہ ہے،تطبیق کے حکم میں نسخ پر ہے۔وہ منسوخ ہے جس کا نسخ مشہور ہے اور اس میں اختلاف نہیں اور نہ ایسے شخص سے اجماع منقول ہے،جس پر اس چیز کے بارے میں بھروسا ہے،جو اﷲ نے اسے سکھایا ہے اور وہ فرع کے ساتھ منسوخ ہے،جیسے (۱) چوتھی بار میں شرابی کا قتل (۲) زانیوں کی ایذا رسانی کا حکم (۳) زکات نکالنے کے بعد سونے چاندی کے کنز کی تحریم (۴) حرمت والے مہینوں میں کافروں اور باغیوں کے قتل کی تحریم (۵) تقسیم سے پہلے تنفیل کا جواز (۶) سونے کی انگوٹھی پہننا (۷) سیاہ کتوں کو مار ڈالنے کا حکم (۸) مثلے کا جواز۔ وہ منسوخ ہے جس کا نسخ مشہور ہو اور اس کی طرف جمہور گئے ہوں اور اس میں مخالفت شاذہو،جیسے (۱)’’الماء من الماء‘‘ کا نسخ (۲) اس سے وضو جسے آگ نے چھوا ہو (۳) رکوع میں تطبیق (۴)مطلقاً عورتوں کو مارنے کا حکم (۵) دو آدمیوں کے درمیان امام کا کھڑے ہونا (۶) صرف نسیۂ (ادھار) میں سود کا ہونا (۷) مال میں زکات کے سوا دوسرے واجبات کا وجوب (۸) عتیرہ کا حکم جو ماہِ رجب میں ذبیحہ ہوتا ہے (۹) عورتوں سے متعہ (۱۰) تین دن کے بعد قربانیوں کے گوشت کی تحریم (۱۱) رضاعت بعد الحولین (۱۲) گائے کی زکات میں بکری واجب نہ ہونا اس تفصیل کے ساتھ جو اس میں وارد ہے (۱۳) تحریم کے نسخ کا دعویٰ کرنے کے ذریعے سے ریشم پہننے کا جواز (۱۴) نسخ کا دعویٰ کرکے موزوں پر مسح۔صدر اول میں اس مسئلے میں اختلاف شاذ تھا،اس کے بعد اس کے قائلین بہت ہوگئے،جیسے امامیہ ہیں (۱۵) قضاے حاجت کے وقت استقبالِ قبلہ کی تحریم کے نسخ میں اختلاف عام ہوگیا (۱۶) ذکر چھونے سے ترکِ وضو (۱۷) حج تمتع (۱۸) دباغت سے میتہ کے جلد کی طہارت (۱۹)شانوں تک تیمم،اس کا نسخ صحیح ہے (۲۰) مسحِ قدمین کا جواز اور مخیر اقرب الی الشذوذ ہے (۲۱) نمازمیں التفات (۲۲) غیر مؤذن کی اقامت کا جواز (۲۳) سامنے سے گزرنے پر نماز کا باطل ہونا (۲۴) تصاویر کی طرف نماز (۲۵) گھٹنوں سے پہلے دونوں ہاتھ رکھنا (۲۶) بہ آواز بلند تسمیہ (۲۷) فجرمیں قنوت کا ثبوت (۲۸) قراء تِ خلف الامام (۲۹) فجرکے ساتھ اسفار کی فضیلت (۳۰)