کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 497
[جس نے کوئی مال چھوڑا تو وہ اس کے گھر والوں کے لیے ہے اور جو شخص قرض یا پسماندگان چھوڑ جائے تو وہ میرے ذمے ہیں ] یہ حدیث پہلے حکم کی ناسخ ہے اور اس باب میں کئی حدیثیں ہیں۔علامہ شوکانی رحمہ اللہ نے’’الفتح الرباني‘‘میں کہا ہے: ’’قد ثبت التصریح في بعض الأحادیث بأنہ قال ہٰذا المقالۃ بعد ماکان یمتنع من الصلاۃ علی المدیون،وھٰذا یدل علی النسخ أبین دلالۃ،ویفیدہ أوضح مفاد،ومن لم یذکرہ ممن صنف في الناسخ والمنسوخ فھو مما یستدرک بہ علیہ‘‘[1]انتھیٰ۔ [بعض احادیث میں بہ صراحت ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات اس کے بعد فرمائی جب آپ قرض دار کا جنازہ نہیں پڑھاتے تھے،اس کی دلالت نسخ پر نہایت آشکارا ہے اور اس کا واضح فائدہ دیتی ہے۔جس نے ناسخ و منسوخ کے بارے میں تصنیف کی ہے اور اس حدیث کا ذکر نہیں کیا ہے تو اس پر اس کے ذریعے استدراک کیا جا سکتا ہے] اس مقصد پر پورا کلام’’دلیل الطالب‘‘ میں ہے،اسے دیکھیے۔[2] پچیسویں حدیث: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: ((سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صلی اللّٰه علیہ وسلم مَا یَلْبَسُ الْمُحْرِمُ؟ قَالَ: لَا یَلْبَسُ الْقَمِیْصَ وَلَا الْعِمَامَۃَ۔۔۔إِلی قَوْلِہِ: وَلَا الْخُفَّیْنِ إِلَّا أَنْ لَّا یَجِدَ نَعْلَیْنِ فَلْیَقْطَعْھُمَا حَتّٰی یَکُوْنَا أَسْفَلَ مِنَ الْکَعْبَیْنِ)) [3] (رواہ أہل السنن) [یعنی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ محرم کیا پہنے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سلے [1] الفتح الرباني من فتاوی الإمام الشوکاني (۶/۳۰۶۳) [2] دلیل الطالب (ص: ۳۸۹) [3] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۳۵۹) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۱۷۷) سنن أبي داؤد،رقم الحدیث (۱۸۲۳) سنن الترمذي،رقم الحدیث (۸۳۳) سنن النسائي،رقم الحدیث (۲۶۶۷) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۲۹۲۹)