کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 491
ہے۔پس دوسری حدیث میں ترکِ قتل اس رخصت کے معارض نہیں ہوگا اور جب تک تطبیق ممکن ہو،نسخ کا قول جائز نہیں ہے،جبکہ تطبیق کے عدمِ امکان کی صورت میں بھی نسخ پر پیش رفت نہیں ہوسکتی،جب تک کہ شریعت سے کوئی نص اس کے نسخ کی نہ پائی جائے،اگر چہ دوحدیثوں میں سے ایک کے دوسری سے تاخر کی تاریخ کا علم ہو،جیسا کہ حافظ حازمی نے اپنی کتاب’’الاعتبار‘‘ کے مقدمے میں اس کی صراحت کی ہے۔ ’’اس کا قول کہ یہ رخصت تھی۔اس کا معنی میرے نزدیک یہ ہے کہ چوتھی بار میں جس حدیث میں اس کا حکم دیا گیا،قتل کی رخصت تھی،لہٰذا اس کا حکم اباحت کا حکم تھا اور اسی لیے اس کو قتل نہیں کیا،جیسا کہ قبیصہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے۔ترمذی پر تعجب ہے کہ اس تطبیق کے باوجود جسے خود زہری رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے،کیسے نسخ کے حکم پر پیش رفت کر دی اور جب نسخ ثابت نہیں ہوا تو وہ کون سی علت ہے کہ باب العلل میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے؟ پھر اہلِ علم کے اس کو چوتھی بار میں برائے سیاست رخصت یا اباحت کے معنی میں نہ لینے کے ثبوت کا طریقہ کیا ہے؟ اس کے باوجود کہ اگر امت میں ایک عالم سے بھی اس کا نہ ہونا ثابت ہو تو بھی وہ اس حدیث سے عدمِ اخذپر دلالت نہیں کرے گا،کیونکہ رخصت کی احادیث سے اخذ کا معنی یہی ہے کہ وہ احادیث اباحت کے لیے ہیں،اگرچہ ان پر کبھی عمل نہ ہو،جیسا کہ عقل مند پر پوشیدہ نہیں ہے،لہٰذا کسی طریقے سے اس حدیث پر اس حکم کی صحت کہ کسی ایک عالم نے اس سے اخذ کیا ہو،ظاہر نہیں ہوئی۔[1] انتھیٰ کلامہ۔ میں کہتا ہوں کہ یہ نقد جو انھوں نے ترمذی پر کیا ہے،خوب ہے،اگر ثابت ہو جائے کہ دو حدیثوں میں سے ایک کا دوسری سے تاریخ میں تاخر ناسخ نہیں ہے۔وفیہ نظر۔مگر یہ کہ اسے نظر انداز کرکے اباحت اور رخصت کے ساتھ اس کی تاویل کریں۔’’عدۃ المنسوخ‘‘ میں کہا ہے کہ چوتھی بار شراب پینے پر شرابی کے قتل کا نسخ مجمع علیہ ہے اور اس پر ترکِ عمل کے اجماع کا اس کے ناسخ کے وجود کی تقدیر پر ذکر کیا ہے،اس کے بعد فرمایا ہے کہ اجماع حکم شریعت کا ناسخ نہیں ہوسکتا ہے۔واللّٰہ أعلم۔ تیئسویں حدیث: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے: ((إِنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم جَمَعَ بَیْنَ الظُّھْر وَالْعَصْرِ بِالْمَدِیْنَۃِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ مِنْ غَیْرِ [1] دراسات اللبیب (ص: ۲۳۷)