کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 485
ضرورت قتل نہ کرنے پر اتفاق ہے،جیسے کہ وہ انھیں اپنی ڈھال بنائیں یا وہ خود لڑیں۔[1] انتھیٰ۔’’مسویٰ‘‘ میں فرمایا ہے کہ شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نہی تفرد اور تمیز کی حالت میں ہے،لیکن شبخون جائز ہے،اگر چہ اس میں عورتیں اور بچے زد میں آئیں۔انتھیٰ۔نووی رحمہ اللہ نے اس مسئلے کے لیے یوں ترجمہ باب قائم کیا ہے:’’باب قتل النساء والصبیان من غیر تعمد‘‘ اس کے بعد حدیث لا کر اس کی شرح کی ہے اور فرمایا ہے کہ عدمِ تعمد مقصود سے بغیر ضرورت ہے اور نہی عدمِ تمیز اور قتال میں ہے،پس اگر لڑیں تو جمہور علما کے قول پر مارے جائیں گے اور یہی ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔[2] واللّٰہ أعلم بیسویں حدیث: بریدہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بھیجا اور فرمایا کہ اگر اسے زندہ پاؤ تو قتل کردو اور اگر زندہ نہ پاؤ تو جلادو۔وہ شخص گیا تو اسے مردہ پایا،تو اس نے اس کو آگ میں جلادیا۔[3] ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور فرمایا: اگر تم ہبار بن الاسود کو پاؤ تو اسے لکڑی کے دوگٹھوں کے درمیان رکھ دو،پھر اسے آگ سے جلادو،پھر اس کے بعد ایک شخص کو بھیجا اور فرمایا کہ ((لَا تُعَذِّبُوْا بِالنَّارِ)) [4] [ آگ سے عذاب نہ دو] میں کہتا ہوں کہ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے ان دو حدیثوں سے زیادہ ذکر نہیں کیا اور نہ ان کے حکم پر کلام کیا ہے،مگر یہ کہ تقریر حکم کا مفہوم آگ سے نہ جلانا ہے اور وہ ایسا ہی ہے۔[5] بیہقی رحمہ اللہ اپنی سنن میں ہبار کی حدیث کو اس جیسے مشرکین سے قتال کی دوسری حدیث کے ساتھ اس قول’’قتلھم بضرب الأعناق دون المثلۃ‘‘ کے ترجمہ میں لائے ہیں اور فرمایا ہے کہ شافعی رحمہ اللہ سے آیا ہے کہ اہلِ شرک کو آگ میں جلانا انھیں قید کرنے کے بعد جائز نہیں ہے اور اگر لڑیں تو انھیں تیر،پتھر اور آگ سے [1] الدراري المضیۃ (۲/ ۴۴۶) [2] شرح صحیح مسلم للنووي (۱۲/ ۴۸) [3] التلخیص الحبیر (۴/ ۱۲۷) [4] سنن سعید بن منصور (۲/ ۲۴۴) نیز دیکھیں : مسند أحمد (۳/ ۴۹۴) سنن أبي داود (۲۶۷۳) [5] إخبار أھل الرسوخ (ص: ۴۲)