کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 483
[یعنی قرآن کے سوا مجھ سے کچھ نہ لکھو اور جس نے مجھ سے کچھ لکھا ہو تو وہ اس کو مٹا دے] سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا: ((قَیِّدُوْا الْعِلْمَ بِالْکِتَابَۃِ)) [1] [یعنی علم کو لکھ کر قید کرو] لیکن یہ موقوف ہے،جو مرفوع سے تعارض کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ابن قتیبہ رحمہ اللہ نے کہا کہ اول اسلام میں فرمایا اور جب جانا کہ سنن بہت ہوجائیں گی اور حفظ فوت ہوجائے گا تو کتابت اختیار کی۔[2] انتھیٰ۔ میں کہتا ہوں کہ امام نووی رحمہ اللہ نے تحریمِ مکہ کی حدیث میں آپ کے ارشاد: ((اُکْتُبُوْا لِأَبِيْ شَاہٍ)) [3] [ابو شاہ کو لکھ دو] کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ غیر قرآن کی کتابت کے جواز میں صریح ہے۔اسی طرح علی رضی اللہ عنہ کی حدیث’’ما عندنا إلا ما في ھٰذہ الصحیفۃ‘‘[4] [ہمارے پاس صرف اور صرف وہ ہے،جو اس صحیفے میں ہے] اور اسی کے مانند ہے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث’’کان ابن عمرو یکتب ولا أکتب‘‘[5] [ابن عمرو رضی اللہ عنہما لکھتے تھے اور میں نہیں لکھتا تھا] لیکن مرفوع موقوف سے بے نیاز ہے اور غیر قرآن کی کتابت سے نہی کے بارے میں کئی احادیث آئی ہیں۔ سلف میں سے بعض نے علم کی کتابت سے روک دیا اور جمہور سلف جواز کے قائل ہوئے۔اس کے بعد امت نے اس کے استحباب پر اجماع کرلیا اور نہی کی احادیث کا دو طریقے سے جواب دیا ہے۔ایک یہ کہ منسوخ ہے اور نہی اول اسلام میں ہر ایک تک قرآن کی شہرت سے پہلے تھی اور اس کے غیر کی کتابت سے نہی اس کے غیر سے آمیز ہونے اور اشتباہ کی وجہ سے تھی۔دوسرا یہ کہ اس شخص کے لیے نہی تنزیہی تھی،جو حفظ پر وثوق رکھتا ہو اور اس پر کتابت پر بھروسا کرلینے کا خوف ہو اور اجازت اس شخص کے لیے تھی،جو وثوق نہ رکھتا ہو۔[6] انتھیٰ۔ اضافے کے ساتھ اور اسی کے مثل شرح کے اخیر میں’’باب التثبت في الحدیث وحکم [1] سنن الدارمي (۱/ ۱۳۸) المستدرک للحاکم (۱/ ۱۸۸) المعجم الکبیر للطبراني (۱/ ۲۴۶) مصنف ابن أبي شیبہ (۵/ ۳۱۳) السلسلۃ الصحیحۃ،رقم الحدیث (۲۰۲۶) [2] إخبار أھل الرسوخ (ص: ۳۹) [3] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۲۳۰۲) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۳۵۵) [4] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۶۸۷۰) [5] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۱۱۳) [6] شرح صحیح مسلم للنووي (۱۸/ ۱۳۰)