کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 482
[میں تمھیں برتنوں سے منع کرتا تھا،یقینا برتن کسی چیز کو حلال کرتا ہے نہ حرام،البتہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے] بریدہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں صحیح مسلم کے ایک لفظ میں ہے: ((کُنْتُ نَھَیْتُکُمْ عَنِ الْأَشْرِبَۃِ إِلَّا فِيْ ظُرُوْفِ الْأَدَمِ فَاشْرَبُوْا فِيْ کُلِّ وِعَائٍ غَیْرَ أَنَّ لَّا تَشْرَبُوْا مُسْکِراً)) [1] [میں تمھیں چمڑے کے برتنوں کے علاوہ دوسرے برتنوں میں مشروبات پینے سے منع کرتا تھا،اب ہر برتن میں پیو،ہاں کوئی نشہ آور چیز استعمال نہ کرو] امام نووی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اول اسلام میں ان برتنوں میں نبیذ بنانا اس ڈر سے ممنوع تھا کہ ایسا نہ ہو کہ وہ مسکر ہوجائے اور اس کی کثافت کی وجہ سے اس کی حالت کا علم نہ ہو اور کوئی اسے غیر مسکر سمجھ کر پی لے اورپینے والے کو نشہ ہو جائے۔یہ مسکر کی اباحت کے نزدیک کازمانہ تھا۔جب زمانہ دراز ہوگیا۔مسکر کی تحریم کی شہرت ہوگئی اور ان کے نفوس میں پائیداری ہوگئی تو وہ حکم منسوخ ہوگیا اور ہر برتن میں جائز ہو گیا،بشرطیکہ وہ مسکر نہ پئیں۔[2] انتھیٰ۔ شوکانی رحمہ اللہ نے’’شرح مختصر‘‘ میں کہا ہے کہ اس باب میں دبا وغیرہ میں نبیذ بنانے کی نہی کے نسخ کے بارے میں احادیث صراحت کرنے والی ہیں۔[3] انتھیٰ۔ میں کہتاہوں کہ ابھی لوگ اس میں مختلف ہیں۔ایک قوم اس میں خطرے کے برقرار رہنے کی طرف گئی ہے،چنانچہ مالک اور احمد رحمہما اللہ اسی کی طرف گئے ہیں اور ایک قوم نسخِ تحریم کی قائل ہے اور یہی راجح ہے۔ اٹھارویں حدیث: ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تَکْتُبُوْا عَنِّيْ شَیْئاً إِلَّا الْقُرْآنَ،وَمَنْ کَتَبَ عَنِّيْ شَیْئاً فَلْیَمْحُہُ)) [4] [1] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۹۹۹) [2] شرح صحیح مسلم للنووي (۱۳/ ۱۵۸) [3] الدراري المضیۃ (۲/ ۳۳۴) [4] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۳۰۴)