کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 478
فرمایا،اس پر اجماع حاصل ہوگیا کہ فرض نہیں ہے اور اس کی فرضیت کے قائلین گزرگئے۔میں کہتاہوں کہ اس باب میں بہت سی احادیث ہیں،جنھیں شیخ عبدالحق دہلوی رحمہ اللہ’’ما ثبت من السنۃ ‘‘ میں لائے ہیں۔[1] شوکانی رحمہ اللہ نے اس روزے کو محرم کے مہینے کا سب سے مؤکد روزہ کہا ہے۔[2]‘’مسویٰ ‘‘میں ہے کہ اکثر کے نزدیک مستحب ہے کہ نویں کے ساتھ دسویں کا بھی روزہ رکھے۔[3] واللّٰہ أعلم بالصواب۔ پندرھویں حدیث: صحیح مسلم وغیرہ میں سبرہ جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ فتح مکہ میں غزوہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دی،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے باہر نہیں آئے کہ اسے قیامت تک کے لیے حرام کردیا۔[4]اسی کے مانند ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔[5] علی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے: ((نَھیٰ عَنِ الْمُتْعَۃِ یَوْمَ خَیْبَرَ)) [6] یہ صحیحین میں ہے۔ترمذی رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت لائے ہیں کہ متعہ اول اسلام میں تھا،یہاں تک کہ یہ آیت: ﴿اِِلَّا عَلٰی اَزْوَاجِھِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ﴾ اتری۔[7] اس باب میں بہت سی احادیث اور طویل اختلاف ہے۔ امام شوکانی رحمہ اللہ نے’’نیل الأوطار‘‘ میں پوری بحث کرکے مختصر میں کہا ہے کہ نکاحِ متعہ منسوخ ہے اور اس کی شرح میں فرمایا ہے کہ جس نے روایت کیا ہے کہ اس کی تحریم یومِ قیامت تک کے لیے ہے،اس باب میں حجت ہے۔[8] ’’حجۃ اللّٰه البالغہ‘‘ میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ روز اس کی رخصت دی،اس کے بعد اس سے منع کر دیا۔اور رخصت دینا حاجت کی بنا پر تھا اور نہی غالب اوقات میں اس حاجت کے نہ ہونے کی وجہ سے تھی۔نیز اس رسم کو جاری رکھنے میں انساب کی آمیزش ہے،کیونکہ مذکورہ [1] ما ثبت بالسنۃ للدھلوي (ص: ۶) [2] نیل الأوطار (۴/ ۳۲۶) [3] المسویٰ شرح الموطأ للشاہ ولي اللّٰه الدھلوي (۱/ ۳۰۶) [4] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۴۰۶) [5] إخبار أھل الرسوخ (ص: ۳۵) [6] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۴۸۲۵) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۴۰۷) [7] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۱۱۲۲) اس کی سند میں’’موسیٰ بن عبیدہ‘‘ ضعیف ہے۔ [8] نیل الأوطار (۶/ ۱۹۴) الدراري المضیۃ (۲/ ۲۰۷)