کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 474
کہتے ہیں کہ یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے منسوخ ہے۔انھوں نے فرمایا: ((وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم یُدْرِکُہُ الْفَجْرُ فِيْ رَمَضَانَ وَھُوَ جُنُبٌ مِنْ غَیْرِ حُلْمٍ فَیَغْتَسِلُ وَیَصُوْمُ)) [1] (متفق علیہ) [یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان میں فجر اس حالت میں پالیتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بغیر احتلام جنابت کی حالت میں ہوتے تھے،پھر غسل کرتے اور روزہ رکھتے تھے] ابو الفرج ابن جوزی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث دو باتوں کا احتمال رکھتی ہے: ایک یہ کہ اول اسلام میں ایسا تھا،پھر منسوخ ہوگیا،جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ہے۔ دوسرا یہ کہ اس شخص کی طرف اشارہ ہو جو فجر نمودار ہونے کے بعد ہم بستری کی وجہ سے جنبی ہوا ہو تو اسے امساک کا حکم دیا جائے گا اور اس کا اس دن کا روزہ شمار نہیں کیا جائے گا۔[2] انتھیٰ۔ میں کہتا ہوں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کا جواب تین وجہ سے ہے،ان میں سے یہی دو احتمال ہیں،جن میں سے پہلا ابن منذر رحمہ اللہ کا جواب ہے،جسے بیہقی رحمہ اللہ سے روایت کیا گیا ہے اور نووی رحمہ اللہ نے اس کی حکایت کی ہے کہ یہ حدیث اول اسلام میں اس وقت تھی،جب سونے کے بعد رات میں ہم بستری حرام تھی،جیسا کہ کھانا اور پینا حرام تھا،پھر منسوخ ہوگیا اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو جب اس کے نسخ کی خبر پہنچی تو اس سے رجوع کرلیا۔ابن المنذر نے کہا ہے کہ’’ہو أحسن ماسمعت فیہ‘‘ واللّٰه أعلم۔ وجہ ثانی کے بارے میں نووی رحمہ اللہ کی عبارت یہ ہے کہ شاید ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث اس شخص پر محمول ہے،جسے حالتِ جماع میں فجر نے پالیا اور وہ اس پر علم کے باوجود برابر برقرار رہا تو وہ مفطر ہوگیا،چنانچہ وہ امساک کرے گا اور اس کا روزہ نہیں ہوگا۔[3] تیسری وجہ یہ ہے کہ افضل کی طرف ارشاد ہے کہ فجر سے پہلے غسل کرلے اور اگر اس کے خلاف کرے تو جائز ہے۔یہ ہمارے اصحاب اور ان کے بھائیوں اہلِ حدیث کا مذہب ہے۔ان زمانوں میں احتلام اور ہم بستری سے جنبی کے روزے کی صحت پر اتفاق کیا گیا ہے۔جماہیر صحابہ و تابعین اسی کے قائل ہیں۔حسن بن صالح رحمہ اللہ نے اس حکایت کا ابطال کیا ہے اور اسی موقف پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تھے،جب کہ صحیح یہ ہے کہ انھوں نے [1] المصدر السابق۔ [2] إخبار أھل الرسوخ (ص: ۳۱۔۳۲) [3] المجموع شرح المھذب (۶/ ۳۰۸)