کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 469
آٹھویں حدیث: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ((إِنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم نَھٰی عَنِ الصَّلَاۃِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتّٰی تَغْرُبَ الشَّمْسُ)) [1] [یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز سے نہی فرمائی،جب تک آفتاب غروب نہ ہو] کہتے ہیں کہ یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے منسوخ ہے،انھوں نے کہا ہے کہ ((مَا دَخَلَ عَلَيَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ)) [2] یہ حدیث سنن ابی داود اور نسائی میں ہے۔اثرم رحمہ اللہ نے کہا کہ عائشہrکی حدیث درست نہیں ہے،کیونکہ ان ہی سے روایت ہے کہ یہ دو رکعت ظہر کے بعد پڑھتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک قوم نے مشغول کردیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو عصر کے بعد ادا کیا۔[3] انتھیٰ۔ میں کہتا ہوں کہ اس کے مثل صحیح بخاری میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔’’سفر السعادۃ‘‘ میں کہا ہے کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی،جب کہ دوسروں کے لیے مکروہ ہے۔[4] انتھیٰ۔جیسا کہ ابو داود کی روایت میں کہا ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم خود عصر کے بعد دو رکعت پڑھتے تھے اور لوگوں کو اس سے روکتے تھے،اسی طرح خود صومِ وصال رکھتے تھے اور دوسروں کو اس سے روکتے تھے۔[5] شیخ رحمہ اللہ نے’’شرح سفرالسعادۃ ‘‘ میں فرمایا ہے کہ بالجملہ احادیث و آثارِ نماز عصر کے بعد عام نماز سے نہی کے بارے میں غالب و قوی ہیں اور جمہور علما کی رائے بھی یہی ہے۔لہٰذا درست یہ دکھائی دیتا ہے کہ یہ دو رکعتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے تھیں اور آپ کے سوا کے لیے مکروہ ہیں،جیسا کہ مصنف نے کہا ہے۔انتھیٰ۔ ابن عقیل رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ممنوعہ اوقات میں نماز کا جوازصومِ وصال کی بنیاد پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۵۶۳) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۸۲۵) [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۵۶۸) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۵۶۷) سنن أبي داؤد،رقم الحدیث (۱۲۷۹) سنن النسائي،رقم الحدیث (۵۷۵) [3] إخبار أھل الرسوخ (ص: ۲۸) [4] سفر السعادۃ (ص: ۲۳) [5] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۱۲۸۰) اس کی سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہے۔