کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 467
میں کہتا ہوں کہ جمہور نے کہا ہے کہ حدیث ((اَلْمَائُ مِنَ الْمَائِ))منسوخ ہے اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ منسوخ نہیں ہے،بلکہ اس کا معنی خواب میں منی دیکھنے پر غسل کے وجوب کی نفی ہے جب اسے انزال نہ ہوا ہو،لیکن درست یہ ہے کہ حدیث احتلام میں مطلق ہے۔اسی لیے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے’’تلخیص الحبیر‘‘ میں کہا ہے کہ اس باب میں چند احادیث عدمِ ایجاب کے بارے میں ہیں،لیکن اخیر میں وجوبِ غسل پر اجماع منعقد ہوگیا۔یہ ابوبکر بن العربی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے۔[1] انتھیٰ۔ رہی ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی حدیث کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: جو اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے اور انزال نہیں کرتا،وہ اپنا ذکر دھوئے اور وضو کرے۔تویہ منسو خ ہے یا ماسوائے شرمگاہ مباشرت پر محمول ہے۔داود رحمہ اللہ اور صحابہ وتابعین کی ایک تھوڑی سی جماعت عدمِ انزال میں عدمِ وجوب کی طرف گئی ہے۔عثمان،علی،زبیر،طلحہ،ابو ایوب اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہم اسی کے قائل ہیں اور بخاری رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ غسل احوط ہے۔شوکانی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس مسئلے میں صحابہ اور جو ان کے بعد ہیں،اختلاف کرتے ہیں اور حق غسل کرنا ہی ہے۔[2] شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے’’حجۃاللّٰہ‘‘ میں فرمایا ہے کہ جو روایتاً صحیح ہے اور جس پر جمہور فقہا ہیں،یہ ہے کہ جس نے جہد کیا،اس پر غسل واجب ہوگیا،گو انزال نہ کرے۔[3] انتھیٰ۔اس کی پوری بحث’’شرح بلوغ المرام ‘‘ اور’’شرح درر بھیۃ‘‘ میں ہے۔[4] ساتویں حدیث: صحیحین وغیرہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث ہے: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم : ((إِذَا جَائَ أَحَدُکُمُ الْجُمُعَۃَ فَلْیَغْتَسِلْ)) [5] [جب تم میں سے کوئی جمعے کے لیے آئے تو وہ غسل کرے] [1] التلخیص الحبیر (۱/ ۱۳۵) [2] الدراري المضیۃ (۱/ ۵۴) [3] حجۃ اللّٰه البالغۃ (ص: ۳۷۷) [4] الروضۃ الندیۃ (۱/ ۵۰) مسک الختام (۱/ ۱۶۳) [5] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۸۳۷) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۸۴۴)