کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 465
دوسری: اس کا احفظ و احوط ہونا۔ تیسری: اس کا عادت سے عبادت کی طرف ناقل ہونا۔ چوتھی: یہ مثبت ہے۔نیز ترجیح کے لیے دوسری وجوہ بھی ہیں۔انتھیٰ۔ شوکانی رحمہ اللہ نے’’شرح مختصر‘‘ میں کہا ہے کہ بسرہ رضی اللہ عنہا کی حدیث تنہا راجح ہے تو دوسری احادیثِ کثیرہ کے اس کے ساتھ انضمام سے اس کے برابر کیا ہوسکے گی؟ کیونکہ اس باب میں صحابہ کی ایک جماعت جابر،ام حبیبہ،ابن عمر،زید بن خالد،سعد بن ابی وقاص،عائشہ،ابن عباس،نعمان بن بشیر،انس،ابی بن کعب،معاویہ،قبیصہ اور ارویٰ بنت انیس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے۔بسرہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کو احمد،اہلِ سنن،مالک،شافعی،ابن خزیمہ،ابن حبان،حاکم،ابن الجارود اور احمد رحمہ اللہ علیہم نے صحیح کہا ہے اور ترمذی،دارقطنی،یحییٰ بن معین،بیہقی،حازمی،ابن حبان اور ابن خزیمہ رحمہ اللہ علیہم روایت کرتے ہیں۔ جو طلق کی حدیث کی ترجیح کی طرف گئے ہیں،کوئی مفید بات نہیں لائے ہیں۔ذَکر کو چھونے سے وضو ٹوٹنے کی طرف صحابہ و تابعین اور ائمہ کی ایک جماعت گئی ہے اور اس کے خلاف بھی ایک جماعت گئی ہے اور درست وضو ٹوٹنا ہے۔جو شرم گاہ چھونے سے وضو ٹوٹنے پر دلالت کررہی ہے،وہ قبل اور دبر ہر دو سے عام ہے،جیسا کہ ابن ماجہ رحمہ اللہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے لائے ہیں۔انھوں نے کہا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ فرماتے تھے کہ جو اپنی شرمگاہ چھوئے تو وہ وضو کرے۔اسے ابوزرعہ اور احمد رحمہما اللہ نے صحیح کہا ہے اور ابن السکن رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ میں اس حدیث کی کوئی علت نہیں جانتا۔[1] شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے’’حجۃ اللّٰه ‘‘ میں کہا ہے کہ یہ اس جنس سے ہے جس میں سلف اختلاف کرتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت متعارض ہے۔ان دونوں میں سے ایک کے نسخ پراطمینان نہیں ہوا۔[2] انتھیٰ۔اس کی پوری بحث ہم نے’’شرح بلوغ المرام‘‘ اور’’درر بہیہ‘‘ کی شرح میں لکھی ہے۔[3] چھٹی حدیث: ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: [1] الدراري المضیۃ للشوکاني (۱/ ۵۳) [2] حجۃ اللّٰه البالغۃ (ص: ۳۷۲) [3] مسک الختام (۱/ ۱۲۶) الروضۃ الندیۃ (۱/ ۴۷)