کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 454
انھوں نے کہا ہے کہ چونکہ خبرِ واحد قرآن کی مثبت نہیں ہے،بلکہ یہ منسا (موخر) میں ہے،نسخ نہیں،نیز یہ دونوں باہم ملتبس ہوجاتے ہیں اور دونوں میں فرق یہ ہے کہ جس کا لفظ منسا ہو،کبھی اس کے حکم کا علم ہوجاتا ہے۔انتھیٰ۔ اس کی یہ بات کہ’’شاید اس کے خبر واحد ہونے کا عقیدہ رکھتا ہو‘‘ مردود ہے،کیونکہ صحیح ثابت ہے کہ اس کو عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کیا تھا۔ حاکم رحمہ اللہ نے کثیر بن ا لصلت رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ زید بن ثابت اور سعید بن عاص رضی اللہ عنہما مصحف لکھ رہے تھے۔جب اس آیت پر گزرے،تو زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا،آپ فرما رہے تھے: ((اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ إِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوْہُمَا)) [جب شادی شدہ مرد اور عورت زنا کریں تو ان دونوں کو رجم کر دو] عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب یہ آیت اتری تو میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ اسے لکھوں ؟ گویا انھوں نے اسے مکروہ سمجھا۔عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نہیں دیکھتے کہ بوڑھا جب زنا کرے اور محصن نہ ہو تو اسے کوڑا ماراجاتا ہے اور جوان جب زناکرے اور محصن ہو تو رجم کیا جاتا ہے۔[1] حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے شرح بخاری میں فرمایا ہے کہ ا س حدیث سے اس کے عموم سے غیر ظاہر پر عمل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی تلاوت کا نسخ مستفاد ہوتا ہے۔[2] میں کہتا ہوں کہ میرے دل میں ایک اچھا نکتہ گزرا ہے،جو یہ ہے کہ اس کا سبب اس کی عدمِ تلاوت اور مصحف میں عدمِ کتابت کے ذریعے امت پر تخفیف ہے،اگر چہ اس کا حکم برقرار ہے،کیونکہ یہ حکم میں سب سے ثقیل اور حدود میں ا غلظ ہے اور اس میں ستر کے مندوب ہونے کی طرف اشارہ ہے۔نسائی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے کہ مروان بن الحکم رحمہ اللہ نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے کہا: تم اسے مصحف میں نہیں لکھ رہے ہو؟ انھوں نے کہا : تم نہیں دیکھتے کہ دونوں شادی شدہ رجم کیے جاتے ہیں اور ہم نے اس کا ذکر کیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمھارے لیے کفایت کروں گا،پھر کہا : اے اﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے آیت رجم لکھوا دیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ایسا نہیں کرسکتا۔[3]ان کی یہ [1] المستدرک للحاکم (۴/ ۴۰۰) [2] فتح الباري (۱۲/ ۱۴۳) [3] سنن النسائي الکبریٰ (۴/ ۲۷۱)