کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 447
4۔سعیدی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ کوئی منسوخ حکم اس آیت: ﴿قُلْ مَا کُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ،الیٰ آخرھا﴾ [الأحقاف: ۹] [کہہ دے میں رسولوں میں سے کوئی انوکھا نہیں ہوں ] سے زیادہ مدت برقرار نہیں رہاہے،یہ منسوخ سولہ سال برقرار رہا،یہاں تک کہ سورۃ الفتح کی ابتدائی آیات نے حدیبیہ والے سال اسے منسوخ کیا۔ 5۔ہبۃ اﷲ بن سلامہ ضریر رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے کہ اس آیت: ﴿وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّیَتِیْمًا وَّاَسِیْرًا﴾ [الدھر: ۸] [اور وہ کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر مسکین اور یتیم اور قیدی کو] میں لفظ ﴿وَاَسِیْرًا﴾ منسوخ ہے،کیونکہ اس سے مشرکین کے اسیر مراد ہیں۔کسی نے ابن سلامہ رحمہ اللہ پر اس کی یہ کتاب پڑھی اور اس کی صاحبزادی سن رہی تھی۔جب وہ اس جگہ پہنچا تو اس کی بیٹی نے کہا: اے ابا جان! آپ نے غلطی کر دی،اس نے پوچھا: کیسے؟ اس نے کہا کہ مسلمانوں نے اجماع کیا ہے کہ اسیرکو کھانا دیا جائے گا اور اسے بھوک سے نہیں مارا جائے گا۔اس نے کہا کہ تم نے ٹھیک کہا ہے۔ 6۔شیذلہ رحمہ اللہ نے برہان میں کہا ہے کہ ناسخ کا نسخ جائز ہے،پھر ناسخ بھی منسوخ ہوجاتا ہے،جیسے اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ﴾ [الکافرون: ۶] [تمھارے لیے تمھارا دین اور میرے لیے میرا دین ہے] کیونکہ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْن﴾ [التوبۃ: ۵] [تو ان مشرکوں کو قتل کرو] اس کا ناسخ ہے،اس کے بعد یہ ناسخ اﷲ تعالیٰ کے اس ارشاد: ﴿حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃ﴾ [التوبۃ: ۲۹] [یہاں تک کہ وہ جزیہ دیں ] سے منسوخ ہوگیا۔لیکن اس میں دو وجہ سے نظر ہے: ایک تو وہی ہے جس کی طرف اشارہ کیا گیا اور دوسری یہ کہ اﷲ کا ارشاد: ﴿حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃ﴾ آیت کا مخصص ہے،ناسخ نہیں۔ہاں اس کی مثال آخر سورۃالمزمل سے دی جاسکتی ہے،کیونکہ وہ خود اپنے اول کی ناسخ ہے اور پھر نمازِ خمسہ کی فرضیت سے منسوخ ہے۔نیز اﷲ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا﴾ [التوبۃ: ۴۱] [نکلو ہلکے اور بوجھل] آیاتِ کف [لڑائی سے ہاتھ روکنے کا حکم دینے والی آیات]کا ناسخ ہے اور یہ آیت،آیاتِ عذر سے منسوخ ہے۔