کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 438
کو دیکھا ہے کہ وہ معوذتین کو مصحف میں نہیں لکھتے،تو انھوں نے فرمایا: اس کی قسم! جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سچائی کے ساتھ مبعوث کیا،میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سورتوں کے بارے میں پوچھا اور جس دن سے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا،اس دن سے تمھارے سوا ان کا حال کسی اور نے مجھ سے نہیں پوچھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ سے کہا گیا کہ کہو،تو میں نے کہا اور تم بھی کہو،تو میں کہتا ہوں،جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔[1] امام طبرانی رحمہ اللہ اس جیسی روایت سیدناابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی لائے ہیں اور اس کا لفظ یہ ہے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ان دونوں سورتوں کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ مجھ سے کہا گیا کہ کہو تو میں نے کہا اور تم بھی ویسے کہو جیسے میں نے کہا۔[2] شاید سیدنا ابن مسعود صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صرف تعویذ پر محمول کیا ہو،ورنہ ان دونوں سورتوں کا تنزیل سے ہونا آفتاب سے زیادہ ظاہر ہے۔بعض اہلِ علم نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے انکار کو ان کی بھول قرار دیاہے اور ان کی بھول کی جگہوں کو سات عدد تک پہنچایاہے اور اسی میں تکبیرِ تحریمہ کے سوا میں رفع الیدین بھی ہے۔ امام مسلم،ترمذی و نسائی رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کے ہاں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انھوں نے کہا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ پر اس رات ایسی آیتیں اتری ہیں،جن کے مانند میں نے کبھی نہیں دیکھیں،یعنی ﴿قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ[3] اور ﴿قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاس﴾ اور اس باب میں صحیح احادیث آئی ہیں۔ تفسیر’’فتح القدیر‘‘ وغیرہ میں مذکورہے کہ یہ ہے مجموعہ ان آیاتِ منسوخہ کا جو اکثر اہلِ علم کی رائے کے مطابق منسوخ ہیں۔ان میں سے بہت سی آیات کے بارے میں کلام ہے،جیسا کہ ان کی تعداد کے ضمن میں اس کا اشارہ ہوا ہے۔ [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۴۶۹۲) مسند أحمد (۵/ ۱۲۹) [2] المعجم الکبیر (۱۰/ ۱۳۲) [3] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۸۱۴) سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۹۰۲) سنن النسائي (۵۴۴۰)